بیروت دھماکے میں حکومتی نااہلی پر لبنانی کابینہ کے ارکان کا مستعفی ہونے کا سلسلہ شروع

بیروت(ویب ڈیسک) بیروت دھماکے میں حکومتی نااہلی پر لبنانی کابینہ کے ارکان کی جانب سے استعفے دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔لبنانی دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے خلاف مشتعل مظاہرین نے اتوار کو بھی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شیلنگ کی گئی۔وہیں دوسری جانب بیروت دھماکے میں حکومتی نااہلی پر لبنانی وزیر اطلاعات اور ماحولیات کے بعد وزیر انصاف بھی مستعفی ہوگئیں۔وزیر انصاف میری کلاڈ نجم نے آج کابینہ سے استعفیٰ دیا اور اب تک مستعفی ہونے والے ارکان کی تعداد 3 ہوگئی ہے جب کہ گزشتہ روز وزیراطلاعات ور وزیر ماحولیات دامیانوس مستعفیٰ ہوئے تھے۔لبنانی کابینہ ارکان کے علاوہ پارلیمنٹ کے بھی 9 اراکین رکنیت سے استعفیٰ دے چکے ہیں جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق وزیر خزانہ کی جانب سے بھی عہدہ چھوڑنے کا امکان ہے۔ اُدھر 4 اگست کو بیروت پورٹ پر دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 158 ہوگئی ہے اور 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں جب کہ گورنر بیروت کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی۔ اور شیلنگ کی گئی۔وہیں دوسری جانب بیروت دھماکے میں حکومتی نااہلی پر لبنانی وزیر اطلاعات اور ماحولیات کے بعد وزیر انصاف بھی مستعفی ہوگئیں۔وزیر انصاف میری کلاڈ نجم نے آج کابینہ سے استعفیٰ دیا اور اب تک مستعفی ہونے والے ارکان کی تعداد 3 ہوگئی ہے جب کہ گزشتہ روز وزیراطلاعات ور وزیر ماحولیات دامیانوس مستعفیٰ ہوئے تھے۔لبنانی کابینہ ارکان کے علاوہ پارلیمنٹ کے بھی 9 اراکین رکنیت سے استعفیٰ دے چکے ہیں جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق وزیر خزانہ کی جانب سے بھی عہدہ چھوڑنے کا امکان ہے۔اُدھر 4 اگست کو بیروت پورٹ پر دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 158 ہوگئی ہے اور 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں جب کہ گورنر بیروت کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی۔