معاہدۂ لوزان، خلافت عثمانیہ کا خوف کفار اور انکے آلہ کاروں پر

تحریر : ملک ظفر اقبال

1918 میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام نے ترکی کی شکست و ریخت پر مہریں ثبت کر دیں ، برطانیہ کی سربراہی میں فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصے پر قابض ہوگئیں اور پھر فاتح اور مفتوح کے درمیان رسوا کن شرطوں کے ساتھ ایک ظالمانہ معاہدہ ہوا، جسے معاہدہ لوزان کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ معاہدہ پورے سو سال پر محیط ہے۔

معاہدۂ لوزان کا انعقاد سوئیزر لینڈ کے ایک شہر ”لوزان“ میں 24 جولائی 1923ء کو اتحادیوں اور ترکی کے درمیان ‏طے پایا تھا۔ اس معاہدہ کی رو سے ترکی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے اور ترکی اگلے سو سال کے لیے اس معاہدہ پر عمل درآمد کاپابند قرار پایا ، معاہدہ کی دفعات اور ان دفعات میں پوشیدہ یورپ کی مسلم دشمنی بھی ملاحظہ ہو۔

  1. اسلامی خلافت ختم کی جائے گی اور اس کی جگہ سیکولر ریاست قائم ہو گی۔
  2. عثمانی خلیفہ کو ان کے خاندان سمیت ملک بدر کیا جائے گا۔
  3. خلافت کی تمام مملوکات ضبط کر لی جائیں گی جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل ہوں گی ۔
  4. ترکی پٹرول کے لیے نہ اپنی سر زمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا ، اپنی ضرورت کا سارا پٹرول اسے امپورٹ کرنا ہو گا ۔
  5. باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کر ے گا ۔ یعنی سو سال تک ۔۔

واضح رہے کہ باسفورس کی سمندری کھاڑی بحراسود ، بحر مرمرہ ، بحر متوسط کالنک ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عالمی ‏تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے ۔

اس معاہدہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم سلطنت ”خلافت عثمانیہ“ کی بساط لپیٹ دی گئی اور افریقہ، ایشیا اور یورپ تک پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بندر بانٹ کا شکار ہو گئی۔

عراق، اُردن اور فلسطین برطانیہ کے کنٹرول ‏میں چلا گیا۔ شام، لبنان، الجزائر اور لیبیا فرانس کے قبضہ میں آئے ۔اناطولیہ اور آرمینیا کو ترکی سے کاٹ کر آزاد ملک بنا دیا گیا۔ حِجاز مُقدس آل سعود کے قبضہ میں (موجودہ مملکت سعودی عرب کی صورت میں) چلا گیا۔ خلیفہ کی ملک و بیرون ملک جائیدادیں ضبط کر کے ملک بدر کر دیا گیا، اسی پر بس نہیں۔

خلیفہ کی معزولی کا‏ پروانہ لے کر اسی صہیونی لیڈر رہرزل کو بھیجا گیا جسے خلیفہ نے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کے مطالبہ پر اپنے دربار سے دُھتکار کر نکالا تھا۔ صہیونیوں کی جانب سے یہ لہراتا ہوا وہ خنجر تھا جو خلافت کی قُبا چاک کرتا ہوا فلسطین کے سینے میں اتر گیا۔

ظُلم کی یہ داستان جو مسلمانوں کی یکجہتی پر کھلا وار تھی، 2023ء میں انجام کو پہنچنے والی ہے، پھر ترکی اپنے علاقے مانگے گا، ملک میں تیل نکال سکتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسلام کے نفاذ اور خلافت کی واپسی کی بات کرسکتا ہے۔‏ قیادت بھی جی دار ہے، یہی سبب ہے کہ یہودیوں کے سینوں میں آگ لگی ہوئی ہے، وہ 2023ء سے پہلے اُمّتِ مُسلمہ کا قلع قمع چاہتے ہیں۔