چار بہنوں نے پاور لفٹنگ میں 100 سے زائد اعزازات اپنے نام کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

چار حقیقی بہنوں نے پاور لفٹنگ میں 100 سے زائد اعزازات اپنے نام کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔چار حقیقی بہنوں نے پاور لفٹنگ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، ایشیئن پاور لفٹنگ فیڈریشن نے بھی خط کے ذریعے تصدیق کرتے ہوئے ان بہنوں کے کارنامے کو خوب سراہا ہے۔ ٹوئنکل، ویرونیکا، سائبل اور مریم کا کہنا ہے کہ اس ملک میں خواتین کرکٹرز کو ہی نوازاجاتا ہے، ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔تفصیلات کے مطابق کہتے ہیں کہ خواتین کی کلائیاں چوڑیاں پہننے کے لئے بنی ہیں، مگر لاہور کی چار بہنیں ایسی بھی ہیں جن کی کلائیوں میں فولاد بھرا ہے، ٹوئنکل، ویرونیکا، سائبل اور مریم سخت جان تو ہیں ساتھ میں پاور لفٹنگ میں ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر 100 سے زائد میڈلز بھی جیت چکی ہیں۔چاروں بہنوں نے دبئی میں شیڈول ایشین پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیا بلکہ سب نے میڈلز جیت کر نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا،ان کے ریکارڈ کی تصدیق اب خود ایشین پاور لفٹنگ فیڈریشن نے ایک خط کے ذریعے کی ہے۔پاور لفٹرز بہنیں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے پر خوش تو ہیں لیکن سرپرستی نہ ملنے پر حکومت سے خفا بھی نظر آتی ہیں۔ٹوئنکل سہیل کا کہنا ہے کہ پاور لفٹنگ مہنگی گیم ہے اس کے باوجود ہم اپنے وسائل میں رہ کر ملک وقوم کے لئے اعزازات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں،میرے والدین کی دعاؤں اور کوچ کی کوششوں سے ایک اور ریکارڈ بنانے میں کامیاب رہی ہیں جس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ویرونیکا، سائبل اور مریم کا کہنا تھا کہ اس ملک میں خواتین کرکٹرز کو ہی نوازا جاتا ہے، ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں، عمران خان خود سپورٹسمین ہیں اور کھیلوں کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں، امید ہے کہ عمران خان ہمیں بھی وزیر اعظم ہاؤس بلا کر قومی سطح پر ہماری حوصلہ افزائی کریں گے۔باہمت بیٹیوں کے والد سہیل کھوکھرنے کہا کہ پاور لفٹنگ کے پلیئرز کو مچھلی، بونگ، دودھ اور ڈرائی فروٹ کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے وسائل میں رہ کر اپنی بیٹیوں کو یہ خوراک دینے کی کوشش کرتا ہوں، وزیر اعظم عمران خان اگر بھر پور سپورٹ کریں تو میری بیٹیاں اولمپکس میں بھی میڈلز جیت کر پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہیں۔چاروں بہنوں نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھا اور کئیعالمی اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔ پاور لفٹرز بہنیں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے پر خوش تو ہیں لیکن سرپرستی نہ ملنے پر حکومت سے خفا بھی نظر آتی ہیں۔ ان کے والد نے بھی وزیر اعظم سے چاروں بہنوں کی نمایاں کام یابیوں کے باجود حکومتی سطح پر قدر افزائی نہ ہونے کا گلہ کیا ہے۔چاروں بہنوں کی توجہ اب کامن ویلتھ گیمز اور اولمپکس میں میڈلز جیتنے کی اگلی منزل پر مرکوز ہے۔