اپوزیشن 20 تاریخ سے اپنی جدو جہد کاآغاز کرے گی

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نیب احتساب نہیں پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے، نیب کو تمام ہدایات حکومت دیتی ہے، ملک پر نالائق ٹولہ اس ملک پر مسلط ہے ، اپوزیشن 20 تاریخ سے اپنی جدو جہد کاآغاز کرے گی ۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ نیب خود مختار ادارے کے طور پر کام نہیں کر رہا ، نیب ناک پر بیٹھی مکھی نہیں ہٹاسکتا سب اوپر سے ہو رہا ہے، نیب چیئرمین سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تک سب مجبور ہیں ، نوٹس دینا بھی نیب کی مجبوری ہے ، حکومت نیب کو بتاتی ہے کس پر کیس کرنا ہے کس کو پکڑنا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو انکوائری کے دوران ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے، جبکہ بلین ٹری انکوائری پر کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ہے نوازشریف پہلے اپنا علاج مکمل کروائیں اس کے بعد واپس آئیں جبکہ اپوزیشن 20 تاریخ سے اپنی جدو جہد کاآغاز کرے گی ۔ واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ سے ان کی اہلیہ ، داماد اور بیٹی کی جائیدادوں اور بسم اللہ سوسائٹی میں خریدے گئے پلاٹوں سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق نیب راناثناسے پیراڈائزویلی فیصل آباد میں 2 کروڑ کی سرمایہ پربھی پوچھ گچھ کرے جبکہ فیصل آباد میں 3 کروڑ 50 لاکھ کی دکان سے متعلق بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق راناثنا سے ظاہر کئے گئی8 کروڑ کے منافع ، 40 کروڑ کی دیگر پراپرٹیز کے شواہد کے حوالے سے بھی تفتیش ہوگی اور فیصل آبادمیں دکانوں اورآرایس کے لمیٹڈمیں سرمایہ کاری سے متعلق متعلق پوچھا جائے گا۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ راناثنااللہ اورنیب کا حاصل کیا گیا ریکارڈ مطابقت نہیں رکھتا، راناثنااللہ نے اثاثوں کی مالیت کم بتائی۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے ان کی فیملی کے ممبران کو بھی طلب کئے جانے کا امکان ہے۔شہریار احمد سے آمدن کے ذرائع سمیت دیگرتفصیلات سے متعلق پوچھ گچھ ہوگی جبکہ اقراثناء بسم اللہ سوسائٹی میں پلاٹس،فیصل آبادمیں دکانوں ، آرایس کے پرائیویٹ لمیٹڈمیں سرمایہ کاری اور ذرائع آمدن سے معلق پوچھ گچھ ہو گی۔