چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا موٹر وے واقعہ پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد:( نیوز ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے موٹر وے پر خاتون سے شرمناک واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ شرمناک ہے ،پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سرمایہ کاری پر ہے،کاروباری معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تاکہ انہیں حل کیا جاسکے، اگر ہم سرمایہ کاری میں اضافے کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام وقت کا تقاضہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام کمرشل و اوورسیز کورٹس ججز کے لئے منعقدہ چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان ،جسٹس جواد حسن ،جسٹس ملک شہزاد احمد ،جسٹس شاہد وحید، جسٹس ،جسٹس علی باقر نجفی ،ڈی جی جوڈیشل اکیڈمی ،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حاند یعقوب شیخ سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔چھ روزہ ٹریننگ ورکشاپ کا اہتمام محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ اور ورلڈ بنک کے تعاون سے کیا گیا۔ٹریننگ ورکشاپ کا بنیادی مقصد کمرشل و اوورسیز کورٹس کے تحت جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ آج ہمارا یہاں اکٹھا ہونا ہمارے سرمایہ کار اور کاروباری طبقے کے لئے بہترین اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری معاملات کا عدالتوں میں لٹک جانا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے،جن ممالک میں بہترین عدالتی نظام موجود ہوتا ہے وہاں سرمایہ کاری بھی زیادہ آتی ہے،اگر ہم سرمایہ کاری میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو بہترین عدالتی نظام وقت کا اہم تقاضا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی زیر نگرانی قائم ورکنگ گروپ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور انویسٹمنٹ بورڈ کی رہنمائی کررہا ہے،کمرشل عدالتوں میں جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے بہترین کیس مینجمنٹ سسٹمبھی ضروری ہے،ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی سادہ کمرشل معاملہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں حل ہو جائے،لاہور ہائیکورٹ نے بہترین اقدام کرتے ہوئے پنجاب کے 5 اضلاع میں ماڈل کمرشل کورٹس قائم کی ہیں،سرمایہ کاروں اور کارباری طبقے کو پولیس سے متعلقہ مسائل پولیس اپنی سطح پر جلد اور میرٹ پر حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں ہم سب نے مل کر اس ملک کو آگے لے کر بجائے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔