40سال سے افغان عوام تنازعات اور خون ریزی سے دوچار تھی۔ افغان امن عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کل سے شروع ہونے والے افغان امن عمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آخر مشترکہ کوششوں سے وہ دن آپہنچا جس کا افغان عوام کو انتظار تھا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 40سال سے افغان عوام تنازعات اور خون ریزی سے دوچار تھی۔ شروع دن سے موقف تھا کہ افغان مسئلہ کا فوجی حل نہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان نے دہشت گردی میں جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ پاکستان نے انتھک کوششوں سے افغان عمل میں کردار اداکرتے ہوئے ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان رہنماوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ امید ہے فریقین اپنے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں گے اورمطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے ثابت قدم رہیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے امن وترقی کے سفر میں افغانستان کو ساتھ کھڑارہنے کا یقین دلایا۔ واضح رہے کہ کل سے افغان امن عمل کا آغاز ہو رہا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اوورسیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،کسی بھی ملک میں ترقی میں اوورسیز کا اہم کردار ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہری شہریت والے نہ تو کوئی عہدہ حاصل کر سکتے ہیں نہ ہی وزیر بن سکتے ہیں، بھارت اور چین میں بھی ان کے اوورسیز نے اہم کردار ادا کیا، دبئی جیسے ممالک نے بیرون ملک سے ماہرین منگوا کر ترقی کی لیکن ہمارے پاس تو ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کا افتتاح کر دیا۔ انہوں نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں،پورا پاکستان ٹیلنٹ سے بھرپڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ہم جدت لانے کے لیے ایم ایل ون کا منصوبہ لے کر آرہے ہیں۔پاکستان میں دو میگا تعمیراتی پراجیکٹس بنڈل آئی لینڈ اور راوی سٹی لارہے ہیں۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی سے دوسرے شعبوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جب حکومت ملی تو کرنٹ اکاونٹ میں 20ارب ڈالرز کا خسارہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھے ٹیکس کی آمدنی قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔ جب تک ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑتھی ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ جب روپیہ گرتا ہے تو چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں اور ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے۔ جس کا معیشت پر بہت برا اثرپڑتا ہے۔ ہم ایسی چیز چاہتے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری آئے۔ ہم سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔