ماضی میں بلوچستان سے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا، حکومت کی توجہ بلوچستان کی ترقی پر مرکوز ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے ماضی میں بلوچستان سے وعدے تو کئے گئے مگر عملدرآمد نہ ہو سکامگر اب ہماری حکومت کی توجہ بلوچستان کی ترقی پر مرکوز ہے۔ بلوچستان کے لئے ہماری حکومت نے پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ فنڈز مختص کئے جو ہماری بلوچستان سے وابستگی اور خلوص نیت کا اظہارہے‘ہم بلوچستان کے ہر علاقے خصوصاً جنوبی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی ہے‘عنقریب وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بلوچستان کا دورہ کریں گے اور جنوبی بلوچستان کی ترقی کے لئے خصوصی پیکیج مرتب کرنے کے حوالے سے مشاورت کریں گے‘ کورونا وبا کی صورتحال میں بہتری آئی ہے مگر ہمیں مزید احتیاط کرنا ہوگی۔ وہ جمعہ کو یہاں بلوچستان کی صوبائی کابینہ کے ممبران سے ملاقات میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ اس موقع پر اسد عمر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ وزارت منصوبہ بندی نے بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہے۔ علاوہ ازیں عمران خان سے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے ملاقات کی۔ملاقات میں صوبہ بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی امور پر گفتگو ہوئی۔ عمران خان کی زیر صدارت بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان اورترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس بھی ہوا۔ کابینہ ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے‘ یہاں ترقی کی بے پناہ صلاحیت اور مواقع موجود ہیں‘بلوچستان میں ترقی کے حوالے سے ترجیحات مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔کچھی کینال سے زرعی ترقی کے بے پناہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ دریں اثناءعمران خان کی زیر صدارت بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان، بحالی کے اقدامات، صوبے میں کورونا وبا کی صورتحال اور تدارک کے حوالے سے اقدامات اور بلوچستان میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے ڈیموں میں پانی کی تسلی بخش صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نئے ڈیموں کی تعمیر سے زرعی شعبے میں ترقی کے بے پناہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔کچھی کینال صوبے کی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مرتب کرنے اور ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن سے ویلتھ کری ایشن ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پسماندہ علاقے ترقی کر سکیں۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے بھرپور معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں جتنے فنڈز بلوچستان کے لئے مختص کئے گئے ہیں اور کسی صوبے کے لئے مختص نہیں کئے گئے۔ حکومت پسے ہوئے طبقات کی فلاح اور پسماندہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ قبل ازیں کوئٹہ پہنچنے پرگورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی اور وزیرا علیٰ جام کمال خان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔سینیٹر شبلی فراز‘اسد عمر‘قاسم خان سوری‘ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔