جنوبی افریقا کی حکومت نے کرکٹ بورڈ تحلیل کر کے تمام معاملات کا کنٹرول خود سنبھال لیا

جنوبی افریقا کی حکومت نے کرکٹ بورڈ تحلیل کر کے تمام معاملات کا کنٹرول خود سنبھال لیا۔جنوبی افریقا کی اسپورٹس کنفریڈریشن اینڈ اولمپکس کمیٹی (ایس اے ایس سی او سی) نے کرکٹ ساؤتھ افریقا کو ایک ماہ کیلئے معطل کر دیا۔قائم مقام چیف ایگزیکٹو ایس اے ایس سی او سی روی گوندر کے مطابق یہ انتہائی قدم کرکٹ ساؤتھ افریقا کی گورننس اور منفی سوچ کےباعث لیا گیا تاکہ مستقبل میں بورڈ اپنے معاملات پر بھرپور توجہ دے سکے۔جنوبی افریقن کرکٹ بورڈ کے معاملات اس وقت بحران کا شکار ہوئے جب ادارے کے کنڈکٹ کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی اور اس رپورٹ کی بنا پر اگست میں کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو تھابنگ مور کو مستعفی کیا گیا۔چیف ایگزیکٹو تھابنگ مور کو برطرف کیے جانے سے 9 ماہ قبل بھی معطل کیا گیا تھا تاہم بورڈ کی جانب سے اس خبر کو پبلک نہیں کیا گیا۔روی گوندر کا کہنا ہے ہم نے بورڈ سے سائیڈ پر ہونے کا کہا تھا تاکہ ہم بورڈ کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے ایک ٹیم تشکیل دیں جو ایک ماہ میں ہمیں رپورٹ کرے۔جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کو گورننس کے معاملات پر اسپانسرز کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ ہفتے جنوبی افریقا کی مرد اور خواتین کرکٹ ٹیموں کے 30 کھلاڑیوں کی جانب سے 5 ستمبر کو ہونے والے کرکٹ جنوبی افریقا کے سالانہ جنرل اجلاس کو مؤخر کرنے کے لیے باقاعدہ خط لکھا گیا۔حکومت کی مداخلت کے باعث آئی سی سی جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔تاہم روی گوندر کے مطابق آئی سی سی نے کرکٹ جنوبی افریقا کو معطل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن ہم پراعتماد ہیں کہ ہمارا فیصلہ قانونی ہے اور آئی سی سی اسے تسلیم کرے گا۔