ملزموں کی نشاندہی ہو گئی ہے ، جلد ملزموں کو گرفتار کرلیا جائیگا

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ ملزموں کی نشاندہی ہو گئی ہے ، جلد ملزموں کو گرفتار کرلیا جائیگا، لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے ملزموں کی نشاندہی کرنیوالوں کیلئے 25 ،25 لاکھ انعام کا اعلان کیا ۔ثبوت دینے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جائینگے ، تحقیقاتی ٹیم کے کنوینئرراجہ بشارت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں متحرک ہیں ۔پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجاب انعام غنی بھی شریک ہیں ، نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے درمیان رابطہ ہواہے ، عمران خان نے عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ ملزموں کو جلد کٹہرے میں لایا جائے، نجی ٹی وی کے مطابق واقعے میں ملوث ایک ملزم عابد کا ڈی این اے ، خاتون کے حاصل کردہ نمونوں سے مل گیا، ڈی این اے نمونہ فارنزک لیبارٹری کے ڈیٹا بینک میں پہلے سے موجود تھا، دستیاب شناخت کے مطابق ملزم کا نام محمد عابد اور اس کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے۔ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔دوسرے ملزم کا نام وقار ہے ، دونوں آپس میں دوست ہیں،اس سے پہلے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کو لاہور موٹر وے کیس پر بیان دینے سے روک دیا ۔سی سی پی او لاہور نے تین روز قبل دئیے گئے اپنے بیان میں خاتون کے رات گئے گھر سےنکلنے پر سوالات اٹھائے تھے جس پر عوام کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی جارہی تھی۔بتایا گیا ہے کہ اب پولیس کا فوکل پرسن اس کیس پر بیان جاری کرے گا ۔دریں اثنا ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران بدفعلی کے 77 واقعات رونما ہوئے جسکے 60 فیصد ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق گوجرانوالہ ریجن واقعات میں 30 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا اور فیصل آباد ریجن میں12 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق ملتان ریجن میں 9 مقدمات درج ہوئے جبکہ لاہور میں 7 واقعاترونما ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان ریجن میں6، شیخو پورہ اور راولپنڈی میں 5، 5 واقعات رپورٹ ہوئے۔بہاولپور اور ساہیوال ریجن میں ایک ایک اور سرگودھا میں ا 2 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 60 فیصد واقعات میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔نجی ٹی وی کے مطابقترجمان پنجاب پولیس کے مطابق واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ایسے کیسز میں ملزمان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔

جواب دیں