توہین رسالت،توہین صحابہ اور توہین اہلبیت کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتے

ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ توہین رسالت،توہین صحابہ اور توہین اہلبیت کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتے ۔ ہم کسی مذہب اور فرقے کے خلاف نہیں ہیں، سب کا احترام کرتے ہیں،سب کو ہمارا احترام بھی کرنا چاہیے۔ہم کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے،ہم دین کے تحفظ کے مشن سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گے اور پر امن انداز میںاپنی تحریک جاری رکھیں گے ،مردم شماری میں مذہب کے ساتھ مسلک کے خانے کا اضافہ کرلیں دودھ کا دودھ پانی ہوجائے گا، وزیراعظم نے اعلان کیا تھاکہ مقدس دینی شخصیات کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا لیکن کچھ نہیں ہوا بلکہ ان واقعات میں ملوث افراد کو بیرون ملک فرار کرادیا گیا،آپ اپنی صفوں میں ایسے افراد کو تلاش کریں جو ان واقعات میں ملوث ہیں،انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مشکل وقت آیا ہم ساتھ کھڑے ہوئے،آپ بھی ہمارے احساسات کو سمجھیں،ہم محب وطن لوگ ہیں،پرامن احتجاج کرنا ہمارا حق ہے،ریاست ہمارے مطالبات کو مانے،فرقہ واریت میں ملوث عناصر کے خلاف عملی کارروائی کرے،ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دینی مقدس شخصیات کی توہین کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اہلسنت وجماعت کے تحت مزار قائد اعظم سے تبت سینٹر تک تحفظ ناموس رسالت وعظمت صحابہ واہلبیت مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مارچ سے شاہ عبدالحق قادری،مفتی جان محمد نعیمی،ثروت اعجاز قادری، پیر سید مظفر حسین شاہ،حاجی حنیف طیب،مولانا رفیع قادری،علامہ رضی حسینی،بلال سلیم قادری،علامہ کوکب نورانی اوکاوڑی،مفتی عابد مبار ک،حاجی رفیق پردیسی ،علامہ مولانا محمد ذاکر نقشبندی سیفی اور دیگر علمائے اہلسنتنے خطاب کیا۔مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا، اس کامیاب اور پرامن اجتماع کے انعقاد کے لیے محنت کرنے والے تمام افراد کو مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں وقت کے حکمرانوں سے سوال کرتا ہوں کہ ہمارے جائز حقوق ومطالبات کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی مذہب اور فرقے کے خلافنہیں ہیں، سب کا احترام کرتے ہیں،سب کو ہمارا احترام بھی کرنا چاہیے،ہم کسی صورت میں دینی مقدس شخصیات کی توہین کو برداشت نہیں کرسکتے۔مختلف ممالک میں دینی مقدس شخصیات کی توہین کی گئی،یہ آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے جذبات کومجروح کرنے کی سازش ہے۔ایسے ممالک ان واقعات سے باز رہیں۔ریاست یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے۔انہوں نے کہا کہکراچی کے ارکان اسمبلی مقدس شخصیات کی توہین اور آئندہ ان کی روک تھام کے معاملے کو پارلیمنٹ اور اسمبلی میں اٹھائیں بصورت ہم عوام سے درخواست کریں گے کہ آئندہ انتخابات میں ان کو ووٹ نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پر امن تحریک جاری رہے گی اور جلد مشاورت سے آئندہ کے لائحمہ عمل کا اعلان کریں گے۔ اپنے خطاب میں شاہ عبد الحق قادری نے کہا کہ دینی شخصیات کیتوہین کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔مفتی جان محمد نعیمی نے کہا کہ ہم بانیان پاکستان کے جاں نشین ہیں،کسی صورت میں مقدس شخصیات کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی،حکومت ہمارے مطالبات کو مانے ،اس ملک میں قانون ایک ہونا چاہیے۔ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ یہ شہر اور پاکستان نبی کے غلاموں کا ہے،ہم دین کے تحفظ کے لیے قانونی جنگ لڑیں گے۔حاجی حنیف طیب نے کہا کہ بارہ ربیع الاول کو کراچی میں بڑا جلسہ کیا جائے گا۔علامہ مولانا ذاکر نقشبندی نے کہا کہ صحابہ کرام سے محبت ہمارے عقیدے اور ایمان کا حصہ ہے ۔دیگر علمائے کرام نے کہا کہ اگر گستاخوں کو سزا نہیں دی گئی تو پھر احتجاج کا دائرہ بڑھایا جاسکتا ہے۔