سہراب گوٹھ، 2 روز قبل مسجد سے گھسیٹ کر مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والا منشیات فروش سرتاج عرف تاجو نہیں

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں 2 روز قبل جمعے کی نماز میں مسجد سے گھسیٹ کر لے جا کر مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے شخص کے لواحقین نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والا منشیات فروش سرتاج عرف تاجو نہیں، فیصل ابڑو تھا۔ پولیس بضد ہے کہ فیصل عرف سرتاج عرف تاجو ایک ہی شخص ہے۔ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس نے ایوب گوٹھ میں 2 روز پہلے مبینہ پولیس مقابلے میں منشیات فروش سرتاج عرف تاجو کو ہلاک کرنے اور منشیات و اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرنے والے کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ مقتول منشیات فروش نہیں تھا۔ مقتول کے کزن عرفان ابڑو نے بتایا ہے کہ پولیس نے جسے مارا وہ سرتاج عرف تاجو نہیں بلکہ فیصل ہے جو کہ لاڑکانہ سے رشتے داروں کی دعوت پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جمعے کی نماز میں دورانِ خطبہ اسے مسجد سے گھسیٹ کر باہر لے گئی اور اس پر گولیاں چلا دیں۔ مسجد کے پیش امام نے بتایا ہے کہ سفید کپڑوں میں ملبوس 20 سے 22 سال کی عمر کے نوجوان کو پولیس نماز کے موقع پر لے گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والے کا نام فیصل عرف سرتاج عرف تاجو ہے اور اس پر 12 مقدمات درج تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ملزم کے بھائی عامر، خان محمد اور عبدالغفار بھی منشیات فروش ہیں، جبکہ لواحقین کے مطابق فیصل کے کسی بھائی کا نام عامر اور خان محمد نہیں، البتہ فیصل کے ایک بھائی کا نام عبدالغفار ہے۔ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے فیصل کی 2 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔

جواب دیں