سانحہ موٹروے، ملزمان پہلے بھی زیادتی کے کیسز سے رہا ہوچکے ہیں

ملزم عابد علی کو بھی گرفتاری کے بعد رہا کیے جانے کا انکشاف، جنسی زیادتی اور دیگر گھناونے جرائم میں ملوث سانحہ گجرپورہ کے مرکزی ملزم کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا، ملزم کیخلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے بعد ملک میں پولیس اور نظام انصاف کے نقائص مکمل طور پر عیاں ہو گئے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ سانحہ گجر پورہ کے دونوں مرکزی ملزمان گزشتہ ماہ گرفتاری کے بعد رہا کر دیے گئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد علی گزشتہ ماہ اگست میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے رہا بھی کر دیا گیا۔ جبکہ اس کے ساتھی سانحہ گجر پورہ کے دوسرے ملزم وقار الحسن کو بھی 14 روز قبل ہی رہا کیا گیا۔ وقار الحسن پر بھی ڈکیتیوں اور جنسی زیادتی کے مقدمات درج ہیں، پھر بھی اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ مرکزی ملزم عابد علی سے متعلق خوفناک تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کئی گھناونے جرائم میں ملوث ہے۔ ملزم عابد علی اپنے بھیانک جرائم کی وجہ سے پہلی مرتبہ 2013 میں پولیس کی نظر میں آیا۔ 2013 میں عابد علی نے اپنے ساتھیوں کیساتھ مل کر ایک مزدور شخص کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کے سامنے اس کی اہلیہ اور 15 سالہ بیٹی کو گھنٹوں تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ بعد ازاں متاثرہ مزدور نے جب پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس نے ملزم کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی۔ مزدور کی اہلیہ اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے جج نے نوٹس لیا تھا جس کے بعد پولیس کچھ ایکشن میں آئی تاہم تب تک ملزم عابد علی ساتھیوں کیساتھ روپوش ہو چکا تھا۔ اس کے بعد اس معاملے پر مزید کوئی کاروائی نہ ہوئی اور عابد علی ساتھیوں کیساتھ مل کر گھناونے جرائم کرتا رہا۔ اس دوران پولیس نے اس درندہ صفت شخص کیخلاف کوئی خاطرہ خواہ کاروائی عمل میں نہیں لائی۔