نیب سلمان شہباز کے بیرون ملک میں رہنے کی وجہ معلوم کرے، عدالت کا حکم

احتساب عدالت نے شہباز شریف کے اہلخانہ سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں قومی احتساب بیورو(نیب) کو حکم دیا ہے کہ وزرات خارجہ سے سلمان شہباز کے بیرون ملک میں رہنے کی وجہ معلوم کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائے. احتساب عدالت کے جج جواد الحسن شہباز شریف اور اہل خانہ کے خلاف ریفرنس پر سماعت کی ہے عدالت نے آئندہ سماعت پر نصرت شہباز اور رابعہ عمران کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم تاہم شہبازشریف کی بیٹی، جویریہ شہباز اور حمزہ شہباز کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی گئی. ملزمان کے وکیل امجد پرویز نے استدعا کی کہ عدالت شہباز شریف کے اہلخانہ کو ابتدائی اسٹیج پہ نہ طلب کریں فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق شریک ملزمان کو پیش ہونا ہے شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیا کہ میری فیملی پر یہ سیاسی مقدمہ بنایا گیا میں ہوش حواس میں پنجاب کی عوام کی حکومت کرتا رہا ہوں میں نے اپنے خاندان کے افراد کا نقصان کیا. احتساب عدالت میں شہباز شریف نے موقف اپنایا کہ میں اپنے متعلق ہائی کورٹ کا حکم لایا ہوںعدالت نے ریمارکس دیے کہ فوجداری مقدمات میں ابھی اس کی ضرورت نہیں تمام بیانات کے بعد بیان ریکارڈ ہوگا جب آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں. عدالت کی جانب سے تعمیل کنندہ کو نصرت شہباز اور رابعہ عمران کے گھروں کے باہر طلبی کا نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دیا گیا ہے عدالت نے دیگر شریک ملزمان علی احمد خان ،سید محمد طاہر اور ہارون نقوی کے پیش نہ ہونے پر بھی ورانٹ گرفتاری جاری کیے ہیں احتساب عدالت نے ہارون یوسف عزیز کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں.۔ شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت 16 ملزمان کے خلاف نیب کا مذکورہ ریفرنس 55 جلدوں پر مشتمل ہے شہباز شریف، سلمان شہباز، حمزہ شہباز، رابعہ شہباز، نصرت شہباز، نثار احمد، شاہد رفیق، یاسرمشتاق، محمد مشتاق، آفتاب محمود، محمد عثمان، طاہرنقوی، قاسیم قیوم، فاضل دادعباسی اور علی احمد کو نامزد کیا گیا ہے شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف چار ملزمان وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں. وعدہ معاف گواہ بننے والوں میں شاہد رفیق، یاسرمشتاق، محمد مشتاق اور آفتاب محمود شامل ہیں احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور خاندان کے افراد کیخلاف ریفرنس پر مزید کارروائی 29 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے.

جواب دیں