فواد عالم دورۂ نیوزی لینڈ کیلیے قومی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کیلیے پرامید

فواد عالم دورۂ نیوزی لینڈ کیلیے قومی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کیلیے پرامید ہیں،مڈل آرڈر بیٹسمین کا کہنا ہے کہ کم بیک پر غیر ضروری دباؤ کا شکار نہیں تھا، بدقسمتی سے پرفارم نہیں کر سکا، 10سال میں کئی منفی خیالات کو جھٹک کر کرکٹ جاری رکھی، خوش قسمت ہوں کہ طویل وقفے کے بعد قومی ٹیم میں واپسی کا موقع ملا، دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی اچھی رہی، چند غلطیوں کی وجہ سے ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز نہ جیت پائے۔ ایک انٹرویو میں 35 سالہ فواد عالم نے کہا کہ عمدہ پرفارم کرنے کا عمومی دباؤ تو کلب کرکٹ میں بھی ہوتا ہے لیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کے طور پرہمیں ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ویسے بھی کوئی ہر اننگز میں سکور نہیں کر سکتا، بدقسمتی سے میں بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پایا، بہرحال کرکٹ میں ایسا ہوجاتا ہے۔ 10 سال میں کئی منفی خیالات بھی ذہن میں آتے رہے، کئی کھلاڑی ہمت ہار جاتے ہیں،میں خوش قسمت ہوں کہ قومی ٹیم میں واپسی کا موقع ملا، انھوں نے کہا کہ انگلینڈ میں پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کیریئر دوبارہ شروع کر رہا ہوں، ٹور کے دوران مینجمنٹ کا رویہ اور ٹیم کا ماحول بڑا شاندار رہا، صفر پر آؤٹ ہوکر آیا تب بھی ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ کوئی بات نہیں، مستقبل کے بارے میں سوال پر فواد عالم نے کہا کہ اس کا تو مجھے علم نہیں، کوچ سمیت مینجمنٹ نے بعض تکنیکی معاملات میں بہتری لانے کا مشورہ دیا ہے۔ امید ہے کہ ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ جاؤں گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انگلینڈ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی اچھی رہی، ہم پہلا ٹیسٹ جیت سکتے تھے، دوسرے اور تیسرے میچ میں مشکل وقت میں کھلاڑی چیلنج پر پورا اترے، بارش نہ ہوتی تو پہلے ٹی ٹونٹی پر گرفت مضبوط تھی،ہم دوسرا بھی جیت سکتے تھے، چند معمولی غلطیوں کی وجہ سے بازی پلٹ جاتی رہی، نوجوان کھلاڑیوں نے اس ٹور سے بہت کچھ سیکھا ہے، اگلی بار یہاں آئے تو مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریںگے۔

جواب دیں