شریف فیملی و ترین فیملی شوگر ملز کے خلاف درخواست پر سماعت

لاہور ہائیکورٹ میں شریف فیملی اور جہانگیر ترین کی شوگر ملوں کے خلاف ایف آئی اے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، چیئرمین نیب اپنے اختیارات کسی کو نہیں دے سکتا، جب کہ ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اثاثے منجمند کرنے کا حکم دیا،اور تفتیشی افسر کو اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے کا بھی اختیار دیا جوکہ ایس ای سی پی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ درخواست گزارکے وکیل کا کہنا تھا کہ قانون جوڈیشل اختیارات کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتا، ڈی جی نیب کے اثاثے منجمند کرنے کے احکامات عام نہیں ہیں، اس کیس میں درخواستگزار کے 5 فیصد سے بھی کم شیئرز ہیں، باقی تمام تو بینکوں کے شیئرز ہیں، سندھ بینک سمٹ بینک، ایم سی بی بینک مرکزی شیر ہولڈر ہیں، اختیار ایس ای سی پی کا بنتا ہے، یہ کہاں سے اختیار لے رہے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ نیب لاہور نے خلاف قانون اقدام اٹھائے، العربیہ شوگر مل کے اثاثہ جات کو منجمد کیا، شہباز شریف، سلمان شہباز سمیت دیگر کیخلاف نیب لاہور میں انکوائری زیر التوا ہے، درخواست گزار کیخلاف اس سے قبل کوئی بھی ریفرنس یا انکوائری التوا میں نہیں ہے،کمپنی کی شئیر ہولڈر کے علاوہ قانونی طور ہر الگ حیثیت ہے، کمپنی کے اثاثہ جات سے شئیر ہولڈر اور ڈائریکٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے، نیب بیورو کیجانب سےدرخواست گزار کی کمپنی پر مانیٹرنگ آفیسر تعینات کیا گیا جو غیر قانونی ہے،اس معاملے میں کمپنی کی ایک الگ قانونی حثیت ہے، ملزم کے اثاثہ جات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ کمپنی نہ ہی مجرم ہے اور نہ ہی کسی کی رشتہ دار ہے،کمپنیز ایکٹ کی شق 41 بی کے تحت جب تک ایس ای سی پی انکوائری نہ کرلے تب تک ریفرنس فائل نہیں کیا جا سکتا ہے، عدالت چیئرمین نیب سمیت دیگر کو کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سے روکے، اور نیب کا 25 نومبر 2019 کا حکم کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دے۔ عدالت نے نوٹ دیا کہ درخواست میں اہم اور قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں جنکی تشریح کے لیے لارجر بنچ بنایا جائے، عدالت نے درخواست گزار کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے اور ہراساں کرنے سے روکنے کے اپنے حکم امتناعی میں توسیع کر دی، جب کہ درخواست لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔