سنتھیا رچی کیس میں منصفانہ ٹرائل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رحمان ملک کی ماتحت عدالت میں سنتھیا رچی کی درخواست پر کارروائی رکوانے کی درخواست پر سماعت کی۔ رحمان ملک کی جانب سے سینیئر وکیل عرفان قادر عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ اس عدالت نے رحمان ملک کے خلاف سنتھیا رچی کی مقدمہ درج کرنے کی درخواست ماتحت عدالت کو دوبارہ سننے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے اس حکم میں ایف آئی آر درج کرنے کی کوئی ہدایت نہیں کی، ہم اس حوالے سے کوئی آبزرویشن نہیں دینا چاہتے جو ماتحت عدالت کی کارروائی متاثر کرے، کیس میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں، یہ تو رحمان ملک کو کہنا چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کرانا چاہتے ہیں، ہو سکتا ہے پورا کیس ہی بے بنیاد الزامات پر مبنی ہو، اس کیس پر منصفانہ ٹرائل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ عرفان قادر نے فیصلے سے عدالتی آبزرویشن نکالنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ کیس کے حوالے سے حقائق چھپا کر عدالت کو گمراہ کیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے جو آبزرویشن دی تھی ماتحت عدالت اس کو دیکھے بغیر اور کسی قسم کا تاثر لئے بغیر فیصلہ کرے۔ عدالت نے رحمان ملک کی درخواست نمٹا دی۔ سینیٹر رحمان ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنتھیا ڈی رچی ایک مہرہ ہے ، میں یہ دنیا کو ثابت کرونگا، ان لوگوں کو بھی بے نقاب کروں گا جو سنتھیا کے پیچھے ہیں۔

جواب دیں