نوازشریف کی گرفتاری کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر مختصر فیصلہ سنا دیا۔ 22 ستمبر کو حاضری کیلئے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کر دئیے گئے ، اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی۔نواز شریف کی 4 صفحات پر مشتمل نئی میڈیکل رپورٹ ان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں جمع کروائی ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے نوازشریف کو علاج کے لیے لندن میں رہنے اور سفر کرنے سے اجتناب کرنے کی تجویز دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کورونا سے بچاؤ کے لیے ہجوم والے مقامات پرنہ جائیں، ان کو اپنی عمر، پیچیدہ بیماریوں وجہ سے اور کورونا کے حوالے سے عام آدمی سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نوازشریف کے مطابق وہ پاکستان کی جیل میں تنہا قید تھے اور ان کی حالت وہاں زیادہ خراب ہوئی ہے۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے نواز شریف کو ہدایت کی ہے کہ وہ معمول کی چہل قدمی جاری رکھیں۔، وہ ہائی رسک کیٹیگری کے مریض ہیں، ان کے دل کے علاج کے لیے تمام اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، کورونا کی وجہ سے نواز شریف سمیت کئی مریضوں کے علاج میں خلل آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے دل کی شریانیں کھولنے کے لیے جلد ہی وقت مقررکیا جائے گااور ان کے پلیٹیلیٹس کا علاج دل کی بند شریانیں کھولنے کے عمل کے بعد کیا جائیگا۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیاد پر نوازشریف کی 2 ماہکیلئے سزا معطل کی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بیان حلفی کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد نواز شریف 19 نومبر 2019 کو لندن روانہ ہوگئے تھے اور اب تک وہیں مقیم ہیں۔

جواب دیں