موٹروے سانحہ،ملزم عاند علی اجرتی قاتل نکلا، 25 ہزار کے عوض قتل کی وارداتوں کا انکشاف

سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد علی اجرتی قاتل نکلا، ملزم 25 ہزار روپے کے عوض قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث رہا، گرفتاری کیلئے پولیس کی جانب سے کئی علاقوں میں چھاپے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم عابد علی کے گھناونے جرائم کے حوالے سے مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عابد علی ایک اجرتی قاتل ہے۔ دوران تحقیقات معلوم ہوا ہے کہ عابد علی چند ہزار روپے کے عوض لوگوں کو قتل کرتا رہا ہے۔ ملزم ایک قتل کیلئے 25 ہزار روپے کی رقم وصول کرتا تھا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کیلئے مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر پنجاب کے خطرناک کچے کے علاقے میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث گینگ کو پولیس اور با اثر شخصیات کی باقاعدہ سرپرستی حاصل رہی۔ پولیس اور با اثر شخصیات کی سرپرستی کی وجہ سے ہی یہ گینگ ہمیشہ سے قانون کی گرفت سے بچتا آیا ہے۔ بااثر شخصیات اور پولیس ہی ماضی میں گینگ کی متاثرہ خاندانوں سے صلح کراتے رہے ہیں۔ کئی کیسز میں عابد علی اور اس کے گینگ کیخلاف ناقابل تردید شواہد موجود تھے تاہم متاثرہ خاندان کی جانب سے کیس واپس لینے کی وجہ سے ملزمان کو سزا نہ مل سکی۔ خاص کر ملزم عابد علی 4 مرتبہ گرفتار ہو کر رہا ہوا۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ گینگ 3نہیں 4افراد پر مشتمل ہے۔ گینگ عابد علی، شفقت،اقبال بالا مستری اورعلی شیر پر مشتمل تھا۔ اس گینگ کے 2 فرد شفقت اور اقبال کو گزشتہ 2 روز کے دوران گرفتار کیا گیا۔ جبکہ علی شیر نامی ملزم پہلے سے ہی جیل میں ہے، جبکہ مرکزی ملزم عابد علی تاحال مفرور ہے۔

جواب دیں