وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو اسپیکر نے رولز کے مطابق اپوزیشن کو پورا موقع دیااپوزیشن نے پہلی مرتبہ فاٹف پر بات نہیں کی ان کا شروع سے دوہرا معیار رہا ہے پہلے اپوزیشن کہتی رہی کہ وہ ملکی مفاد میں اس پر قانون سازی کیلئے تیار ہے مذاکرات میں ان کی طرف سے جو قابل عمل تجاویز سامنے آئیں ہم نے حتی الوسعی کوشش کی کہ ان تجاویز کو قانون میں پرو دیا جائے آج صبح سینٹ میں ایک بل جاتا ہے اور اپوزیشن اسٹنڈنگ کمیٹی میں اس بل کے حق میں ووٹ دیتی ہے اسی اثنا میں ایک فون کال موصول ہونے پر سینٹ کے فلور پر اس بل کی مخالفت کی جاتی ہے کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟ آج کے مشترکہ اجلاس کا مقصد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا تھا جبکہ ہندوستان ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے درپے ہے آج قوم نے اس حوالے سے واضح فیصلہ کرنا تھا ہم آج توقع کر رہے تھے کہ اپوزیشن ایک تعمیری کردار ادا کرے گی مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہواجب کوئی بل ووٹنگ کی سٹیج پر آ جاتا ہے تو اس پر تقاریر نہیں ہو سکتیں اپوزیشن جب عددی برتری ثابت نہیں کر پائی تو انہوں نے معاملے کو گھسیٹنا شروع کر دیا بلاول نے جب ایوان میں بات کرنا چاہی تو ہم نے انہیں یہی کہا کہ آپ نے اگر کوئی ترمیم مووو کی ہے تو آپ بات کرسکتے ہیں ورنہ نہیں جن لوگوں نے ترامیم مووو کیں تھیں اسپیکر انہیں بلاتے رہے لیکن وہ بدستور احتجاج کرتے رہے کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ عددی اکثریت کھو چکے ہیں میں آج ایوان کا، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اور اپنے اتحادیوں کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بھرپور انداز میں ہمارا ساتھ دیا اور ووٹنگ میں شریک ہوئے
آج پاکستان کی جیت ہوئی ہے فاٹف کے اگلے اجلاس میں پاکستانی وفد انہیں بتا سکے گا کہ پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ اور منی لاڈرنگ کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور اس سے یقیناً پاکستان کو فائدہ ہوگا آج جس طرح اپوزیشن نے رخنہ اندازی کی کوشش کی
اگر مشترکہ اجلاس میں یہ قانون پاس نہ ہوتا تو کس کے ایجنڈے کو تقویت ملتی؟ ہندوستان کو موقع ملتا اور مطلوبہ قانون سازی نہ کر سکنے پر،ایشیا پیسیفک اجلاس میں پاکستان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا

جواب دیں