بلاول بھٹو اور شہباز شریف کی مشترکہ پریس کانفرنس حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج پارلیمان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندا گیا اور اسپیکر اسد قیصر نے ہماری ترامیم پر بحث ہی نہیں ہونے دی، اپوزیشن ایف اے ٹی ایف سے متعلق 12 بلوں کی حمایت کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود ہماری حق بجانب ترامیم کو مسترد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے بلوں کی منظوری میں اپوزیشن نے پاکستان کے مفاد کا ساتھ دیا، ہم نے ایف اے ٹی ایف پر 12 بل پاس کیے، اس پر پوری اپوزیشن جماعتوں نے پاکستانیت کا ثبوت دیا۔جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے ایوان میں قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ گنتی میں دھاندلی کی گئی،حکومت نے ریڈ لائنز کراس کر لیں،ہمیں اے پی سی میں ٹھوس فیصلہ کرنے ہونگے، اسپیکر کے رویے پر تحریک اعتماد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،اے پی سی میں اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلوں پر تمام اپوزیشن جماعتیں کاربند ہوں گی،ہمارے ملک میں جب تک احتساب کے فیصلے واٹس ایپ پر ہوں گے توکیسے انصاف ہو گا؟۔ان خیالات کا اظہار اپوزیشن لیڈرز چیمبر میں بلاول بھٹو زرداری،شہباد شریف،مولانا اسعدالرحمان، خواجہ آصف سمیت دیگر رہنما پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہاکہ مشترکہ اجلاس میں پروسیڈنگز کو پاؤں تلے روندا گیا،پہلی مرتبہ اپوزیشن لیڈر کو بھی ایوان میں بات نہیں کرنے دی گئی،حتیٰ کہ اسپیکر نے مجھ سے آنکھیں ملانے سے انکار کر دیا،آج جمہوری تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے،اسپیکر کا اسمبلی مین رویہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کی ہدایات پر تھا، انہوں نے کہاکہ اسپیکر نے تمام پارلیمانی روایات کو روند دیا،یہ ایک کالا قانون منظور کرنا چاہتے تھے،یہ 180 دن کیلئے کسی کو بھی بغیر اطلاع گرفتار کرنا چاہتے تھے، ہم عو ام کی بات کر رہے تھے کہ عوام کو اٹھایا جائے مہینوں بند کیا جائے اور کسی کو پتہ ہی نہ ہو،پہلے اجلاس پر بحث ہو سکتی ہے، اسپیکر صاحب نے وہ بھی نہ کرنے دی۔انہوں نے کہاکہ یہ لوگ جو کہتے تھے کہ این آر او مانگتے تھے،حالانکہ اپوزیشن تو پہلے ہی نیب کا شکار ہے جیلیں برداشت کر رہی ہے،اپوزیشن تو پہلے ہی نیب کو حوصلے سے برداشت کر رہی ہے،ہم تو ملک کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 22 کروڑ عوام نے اسقدر بدترین معاشی حالات نہیں دیکھے،ہم حکومت کے اس رویے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہاکہ ابھی تک ایف اے ٹی ایف کے بلوں کی منظوری میں اپوزیشن نے پاکستان کے مفاد کا ساتھ دیا،ہم نے ایف اے ٹی ایف پر 12 بل پاس کیے اور اس پر پوری اپوزیشن جماعتون نے پاکستانیت کا ثبوت دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم سب یہاں پورے پاکستان سے منتخب ہو کر آئے ہیں،ایک اہم قانون سازی جس کے نتائج پورے ملک پر مرتب ہوں گے اس پر بات کرنا چاہتے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ سب غیر آئینی ہے،اسپیکر کے پاس اجازت نہیں ہے کہ وہ قائد حزب اختلاف کو روک سکیں،انہون نے نہ صرف روکا بلکہ کسی کو بات نہیں کرنے دی،انہوں نے اب عوام کے وارنٹ کے حق کو ختم کیا ہے،اب پولیس کو کسی کو گرفتار کرنے کیلئے وارنٹ کی ضرورے نہیں ہو گی،ایک محب وطن ہوتے ہوئے ہم ایسی ترامیم پیش کرنا چاہ رہے تھے،ایسا رویہ پوری اسمبلی کا ماحول خراب کر دیتا ہے،ہم یہاں عوام کی بات کرنے آئے تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اب ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑیں گے تاکہ جمہوریت بحال ہو،پاکستان کی جمہوری تاریخ پر ایک بڑا حملہ ہوا ہے،یہ ہمارا حق ہے کہ ہم پارلیمان میں جا کر اپنا موقف بیان کر سکیں، ہمیں شک ہے کہ حکومت نے ایڈوائزز کو ووٹ میں شامل کیا،وگرنہ حکومت کو دوبارہ گنتی میں کیا مسئلہ تھا،ہم سب مشترکہ پہوزیشن اس پر سخت اعتراض کرینگے۔جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا اسعد الرحمان نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر اور بلاول صاحب نے جو اپنی گزارشات پیش کی میں ان کی مکمل تایید کرتا ہوں،قومی اسمبلی اجلاس میں دستوری،قانونی اور آئینی تقاضے پامال ہوئے،جو بل پاس کیے گئے اور جیسے پاس کیے گئے ان کی کوئی قانونی اور دستوری حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں جب تک احتساب کے فیصلے واٹس ایپ پر ہوں گے توکیسے انصاف ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ قانون سازی بھی قبول نہیں،جو میرا استحقاق مجھے میرا آئین اور جمہوریت دیتا ہے وہ کیسے لیا جا رہا ہے،جو قانون سازی جس انداز سے بھی پارلیمان قومی خودمختاری کے خلاف ہو گی اس کو ہم مسترد کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب انہوں نے دو دو منٹ اپوزیشن جماعتوں کو دینے کی بات کی تو ایک غیر منتخب شخص اسپیکر کو وقت دینے سے منع کر رہا تھا،اپوزیشن مطالبہ کر رہی تھی کہ ایوان میں تقسیم کریں کہ پتہ چلے کہ کتنے لوگ کس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا میں ختم نبوت پشاور کا اجلاس نہیں دکھایا گیا تو میڈیا پر میرے خلاف بات بھی نہیں ہونی چاہیے تھی،جب میں اختلاف کر رہا تھا تو اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا،حکومت سے یہ بھی برداشت نہیں ہوا کہ کوئی اس کو ترمیم دے،میں اس حوالے سے سنجیدہ تحفظات رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ آنے والی کل کماعتی کانفرنس میں ہم اس معاملے پر سنجیدہ بات کریں گے اور فیصلے سامنے لائیں گے۔سینیٹر میر کبیر نے کہاکہ حکومت نے بزور طاقت ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا،آج حکومت نے 2018 کی یاد کو تازہ کیا،ہم نے ترامیم بہت نیک نیتی سے لائی تھیں ،یہ حکومت کی غیر سنجیدگی کی انتہا ہے،پاکستان اس دور سے گزر رہا ہے کہ گذشتہ 74 سال میں اس سطح سے نہیں گزرا،آدنیا میں حکومت نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے،ترکی ملائشیا اور سعودی عرب ہم سے دور جا چکے ہیں،ان کو لانے والے بھی اب پریشان ہیں،ہم اے پی سی میں اس پر بات کریں گے کہ کیسے عوام کو ان سے نجات دلائیں۔خواجہ آصف نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی گئی گنتی میں دھاندلی کی گئی،ہماری اکثریت تھی لیکن ہماری تعداد کو کم کیا گیا۔