اجتماعی زیادتی کیس، اہم سیاسی رہنما کا بیٹا بھی ملوث

کلفٹن میں نوجوان لڑکی کومبینہ اغوا کرکے زیادتی کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے ، پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے جیکب آباد اور قاردپور میں چھاپے بھی مارے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ۔ تفصیلات کے مطابق کلفٹن میں مبینہ زیادتی کیس کی تحقیقات کادائرہ وسیع کردیا گیا ، ایس پی انویسٹی گیشن بشیربروہی کی سربراہی میں تحقیقات جاری ہے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لئے جیکب آباد اور قاردپور میں چھاپے مارے اور مخصوص بنگلوں کا محاصرہ کیا۔ گذشتہ روز کلفٹن سے مبینہ طور پر اغوا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے کیس میں ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے بیٹے کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پہلے ڈیفنس، کلفٹن اور پھر گلستان جوہر میں چھاپے مارے لیکن تاحال کوئی گرفتاری نہیں ہو سکی ہے ، پولیس حکام کے مطابق ملزمان کا مکمل ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل فون مسلسل بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، یاد رہے کہ پولیس حکام نے واقعہ کے دوسرے روز انکشاف کیا تھا کہ کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی لڑکی اور لڑکا دونوں رابطے میں تھے، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ میں بھی لڑکی سے زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ منظر عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ مبینہ اغوا کاروں کے ساتھ لڑکی نے مزاحمت نہیں کی اور وہ ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نظر آئی تھی۔