بجلی اور مقناطیس سے ذیابیطس کا علاج

امریکی سائنسدانوں نے چوہوں پر تجربات کے بعد دریافت کیا ہے کہ بجلی اور مقناطیسی میدان (ای ایم ایف) سے ٹائپ 2 ذیابیطس میں افاقہ ہوتا ہے جبکہ یہ اثرات خاصی مدت تک برقرار بھی رہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف آیووا میں کارور کالج آف میڈیسن کی سنی ہوانگ اور کیلون کارٹر کی مشترکہ سربراہی میں کی گئی اس تحقیق کے دوران ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا چوہوں کو روزانہ دو گھنٹے کےلیے، تین دن تک ساکن برقی مقناطیسی میدان (Static EMF) میں رکھا گیا۔ اس کے بعد چوہوں کے خون میں شکر (بلڈ شوگر) اور انسولین کی حساسیت (Insulin Sensitivity) کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ معمول پر واپس آچکی تھیں۔ واضح رہے کہ بلڈ شوگر اور انسولین کی حساسیت (یعنی کارکردگی) کو ذیابیطس کی شدت ناپنے کے دو اہم ترین پیمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خاص بات یہ دیکھنے میں آئی کہ اُن چوہوں میں بھی بلڈ شوگر اور انسولین کی کارکردگی معمول پر واپس آگئی جنہیں جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ذیابیطس میں مبتلا کیا گیا تھا، جبکہ دوسری جانب برقی مقناطیسی میدان کے یہ اثرات بھی کئی دنوں تک برقرار رہے۔