کوئی بھی شریعت کے مطابق بہنوں کو حق نہیں دینا چاہتا، سپریم کورٹ کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے 57 کنال اراضی کے انتقال کے معاملے میں ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کردی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ پتا نہیں اس ملک میں لوگ شریعت سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں، کوئی شریعت کے مطابق بہنوں کو حصہ نہیں دینا چاہتا،میں نے آج تک نہیں سنا کہ کسی بھائی نے اپنی بہن کو زمین گفٹ کی ہو،بھائی تو خوش ہوتے ہیں کہ ان کو جائیداد میں دوگنا حصہ مل رہا ہے، نو سال پہلے کا واقعہ تھا تحصیلدار کو کیسے یاد رہا،تحصیلدار کے دستخط تھے اس لیے اس نے اقرار کرلیا،یہ تو معجزہ کی بات ہے کہ نو سال پرانی بات اسے یاد آرہی ہے ،اگر وہ روزانہ 10 سے 20 کیسز بھی کرتا ہو گا تو اسے کیسے یاد رہا کہ یہ وہی خاتون ہے۔معاملہ 1996 میں تلہ گنگ میں بہن کی طرف سے والد کی وفات کے بعد اپنی 57 کنال اراضی اپنے اکلوتے بھائی کو گفٹ کرنے کا تھا۔ سول کورٹ نے گفٹ کو قانونی قرار دیا تھا،ڈسٹرکٹ کورٹ نے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ڈگری کر دی تھی،ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، اب سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کا ڈگری کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے زمین کے انتقال کے تنازعہ سے متعلق درخواست خارج کردی ہے۔

جواب دیں