اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاوٗ کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مندی غالب

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو اتار چڑھاوٗ کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مندی غالب آگئی اورکے ایس ای 100 انڈیکس 75.79 پوائنٹس کی کمی سے 40068.50 پوائنٹس کی سطح پر آ گیاجبکہ 45.85 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی جس کے سبب سرمایہ کاروں کو 5 ارب 18 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بدھ کی نسبت 9 کروڑ 19 لاکھ 86 ہزار شیئرز زائد رہا۔گذشتہ روز ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری کی گئی جس کے نتیجے میں تیزی رہی اورکے ایس ای 100 انڈیکس 40533 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا تاہم بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف تحریک شروع ہونے کے تناظر میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کے پیش نظر فروخت کا دباوٗ بڑھ گیا جس کے باعث تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 40 ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 39999 پوائنٹس کی سطح پر آگیا لیکن بعد میں ریکوری آنے سے 40ہزار کی حد بحال ہوگئی لیکن مندی کے اثرات غالب رہے اور کاروبار کے اختتا م پر کے ایس ای 100 انڈیکس 75.79 پوائنٹس کی کمی سے 40068.50 پوائنٹس پر بند ہوا جب کہ کے ایس ای 30 انڈیکس 72.21 پوائنٹس کی کمی سے 16870.98 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 16.64 پوائنٹس کی کمی سے 28457.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔گزشتہ روز مجموعی طور پر 434 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 199 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 216 میں کمی اور 19 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی آ نے کے باعث سرمائے کا مجموعی حجم 74 کھرب 93 ارب 37 کروڑ 61 لاکھ روپے سے گھٹ کر74 کھرب 88 ارب 19 کروڑ 51 لاکھ روپے ہوگیا۔ قیمتوں میں اتار چڑھاوکے اعتبار سے نیسلے پاکستان کے حصص 200 روپے کے اضافے سے 6600 روپے اور آئی لینڈ ٹیکسٹائیل 71.97 روپے کے اضافے سے1031.67 روپے ہوگیا جب کہ رفحان میظ300 روپے کی کمی سے8050 روپے اور پاک ٹوبیکو 40 روپے کی کمی سے 1600 روپے کے ساتھ سرفہرست رہے۔

جواب دیں