گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف کے خطاب کا امکان

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ جلسے سے ان کی جماعت کے قائد نوازشریف کے خطاب کرنے کا قوی امکان ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں اور راستے بند کیے جارہے ہیں ، حکومت کی طرف سے پہلے تو جلسے کی اجازت دینے میں تاخیر کی گئی پھر راستے بند کرنا شروع کر دیے ہیں ، جس کے لیے خار دار تاریں لگا کر چاروں اطراف کو بند کیا جارہا ہے ، تاہم اگر حکومت کی طرف سے رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو میدان ضرور سجے گا ، اور جلسے کے دوران سماجی فاصلوں کا خیال رکھا جائے گا اور کرسیاں 3 فٹ کے فاصلے پر رکھی جائیں گی ، اسٹیڈیم میں جگہ کم ہوئی تو باہر بھی بیٹھنے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں ، اور اس جلسے سے ہماری جماعت کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کا بھی امکان ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جلسے میں شرکت کی تیاریاں مکمل طور پر خفیہ رکھی جا رہی ہیں ، پارٹی کی نائب صدر مریم نواز ریلی کی صورت میں جائیں گی یا سکیورٹی قافلے کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچیں گی ، اس حوالے سے تفصیلات کو بھی منظر عام پر نہ لانے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے ، بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ایک حصے کی رائے ہے کہ مریم نوازصرف ایک سکیورٹی قافلے کے ساتھ براستہ رنگ روڈ اورموٹروے گوجرانوالہ پہنچیں ، تاہم پارٹی رہنماؤں کے دوسرے گروپ کی رائے کے مطابق مریم نوازجاتی امرا سے بڑی ریلی کی صورت میں شہرکے اندرسے ہوتی ہوئیں گوجرانوالہ جلسے میں شرکت کیلئے جائیں ، جب کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ کیا ہوا ہے اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں ، جب کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ کارکن 16اکتوبر تک گھروں میں نہ سوئیں، گرفتاریوں سے بچیں، حکومت جلسے سے خوفزدہ ہوکر پکڑ دھکڑ شروع کردی، گوجرانوالہ جلسہ ہر صورت کامیاب ہوگا، پاسبان رضاکار دیگر لوگوں کو بھی ساتھ ملائیں ۔

جواب دیں