اوکاڑہ کی تاریخ، ملک ظفر اقبال

اوکاڑہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک مشہور شہر ہے جو کے ضلع اوکاڑہ میں واقع ہے۔ یہ ضلع اوکاڑہ کا صدر مقام ہے۔اوکاڑہ کو منی لاہور یا چھوٹا لاہور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ لفظ اوکاڑہ اوکان سے نکلا ہے جو ایک درخت کا نام ہے۔ یہ لاہور و فیصل آباد کے جنوب مغرب میں دریائے راوی سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ زراعت اور کپاس کی صنعتوں میں مشہور ہے۔ سیلہ چاول، آلو اور مکئی اوکاڑہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک برآمد ہوتے ہیں . اوکاڑہ سے نزدیک ترین بڑا شہر ساہیوال ہے جس کا پرانا نام منٹگمری ہے۔

آبادی کے لحاظ سے اوکاڑہ کا شمار پاکستان کے بڑے اضلاع میں ہوتا ہے۔ اوکاڑہ میں ڈیری فارمز کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کا پنیر پورے پاکستان میں مشہور ہے اوکاڑہ کی یہ اشیاء تقسیم برصغیر سے قبل بھی مشہور تھیں۔ اوکاڑہ کا پوسٹل کوڈ 56300 ہے۔

اوکاڑہ کی تاریخ

تذکرہ ایک ایسے شہرکا جس کا سفر ایک سرائے سے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک گنجان آباد علاقہ میں بدل گیا۔

اس شہر کا نام اوکاں نامی پودے سے منسوب ہے جس کا اٹھارہویں صدی عیسوی یہاں ایک جنگل ہوا کرتا تھا۔ اس راستے سے گزرنے والے مسافر عموماً اس گھنے جنگل میں ٹھہراﺅ کرتے اور پھر اپنی منزل کی طرف نکل جاتے۔

اوکاڑہ کو یہ نام ملنے سے پہلے دو دوسرے نام “اوکاں والا” اور “اوکاں اڈا” بھی حاصل رہے۔ تاریخ1849ء میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد دو سال پاکپتن ضلعی ہیڈ کوارٹر رہا۔ 1851ء میں انگریزوں نے ایک نئے ضلع منٹگمری کی بنیاد رکھی جس کا ہیڈ کوارٹر گوگیرہ کو بنایا گیا۔ تب موجودہ ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ اسی ضلع کے حصے تھے۔1865ء میں ضلع کا ہیڈ کوارٹر ساہیوال (تب منٹگمری) میں شفٹ کر دیا گیا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اوکاڑہ ضلع منٹگمری کا ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ اوکاڑہ آباد ہونے سے پہلے یہاں اوکاں کا جنگل ہوا کرتا تھا۔

دی اربن یونٹ کے تحت اوکاڑہ پر تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق نہری نظام متعارف کروائے جانے سے پہلے اوکاڑہ ایک بنجر علاقہ تھا۔ 1913 میں پہلے لوئر باری دوآب اور اس کے بعد پاکپتن و دیپالپور نہروں نے اس علاقے کو کھیتی باڑی کا مرکز بنا دیا۔1918ء میں ریلوے لائن بچھنے سے اوکاڑہ کراچی اور لاہور سے جڑ گیا جبکہ 1925ء تک اوکاڑہ کو سڑکوں کے ذریعے سبھی بڑوں شہروں کیساتھ جوڑا 5جا چکا تھا۔

1913ء میں اوکاڑہ کو ٹاؤن کمیٹی اور پھر 1930ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ میونسپل کمیٹی درجہ ملتے ہی اوکاڑہ کو تحصیل آفس اور پولیس اسٹیشن کی سہولیات بھی میسر ہوگئیں۔ 1936ء میں جب اوکاڑہ میں برلا گروپ نے ستلج ٹیکسٹائل مل کی بنیاد رکھی تو اوکاڑہ کیلئے معاشی ترقی کے دروازے کھل گئے۔ اردگرد کے علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مل میں ملازمت کیلئے آکر شہر میں آباد ہو گئی۔

1942ء میں یہاں مارکیٹ کمیٹی بننے کے بعد اوکاڑہ کو زرعی اجناس کی تجارت کے علاوہ سبزی و فروٹ منڈی، غلہ منڈی، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، گورنمنٹ ہائی سکول (بوائز 5و گرلز)، ٹیلیفون ایکسچینج، پاور ہاؤس، میونسپل پارک اور پوسٹ آفس کی سہولیات دستیاب ہوگئیں۔

سال 1982ء میں اوکاڑہ کو ضلع کا درجہ ملا۔

تقسیم سے پہلے اوکاڑہ کی آبادی کا بڑا حصہ ہندو اور سکھ آبادی پر مشتمل تھا جو پاکستان بننے کے بعد انڈیا چلی گئی اور انڈیا سے ہجرت کر کے آنیوالے مسلمانوں کو اوکاڑہ میں زمینیں الاٹ کر دی گئیں، جس سے اوکاڑہ مزید پھیلتا گیا۔ 1967ء میں یہاں فوجی چھاؤنی بنائی گئی۔

1982ء میں اوکاڑہ کو ضلع کا درجہ دیا گیا تب یہ دو تحصیلوں دیپالپور اور اوکاڑہ پر مشتمل تھا۔ 1988ء میں بابا فرید شوگر مل لگنے سے ضلع اوکاڑہ کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملی بعد ازاں ستلج ٹیکسٹائل مل اور بابا فرید شوگر مل کے بند ہوجانے سے اوکاڑہ کی کمرشل ساکھ کو شدید دھچکا لگا۔

ضلع اوکاڑہ کے حدود اربعہ کے لحاظ سے اوکاڑہ کے مشرق میں قصور، مغرب کی طرف ساہیوال اور پاکپتن، شمال میں فیصل آباد اور شیخوپورہ سے جبکہ جنوب میں بہاولنگر واقع ہے۔ دریائی اعتبار سے اوکاڑہ میں تین دریا مشرق میں ستلج، مغرب میں راوی اور بیاس بہتے ہیں۔ بیاس اب مکمل طور پر خشک ہوچکا ہے جبکہ ستلج میں سال کا زیادہ عرصہ پانی کی مقدار کافی کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

اگست ستمبر کے مہینوں میں بارشیں ہونے اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے پر اس میں بھی طغیانی آجاتی ہے۔ رقبہ و آبادی ضلع اوکاڑہ اس وقت تین تحصیلوں پر مشتمل ہے جس میں اوکاڑہ، دیپالپور اور رینالہ خورد شامل ہیں۔ ضلع اوکاڑہ کا رقبہ چار ہزار 377 مربع کلومیٹر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی تقریباً بائیس لاکھ تھی جو اس وقت ایک اندازے کے مطابق بتیس لاکھ ہوچکی ہے۔ یہاں کی تین تحصیلوں میں رینالہ خورد، دیپالپور، اوکاڑہ میں پانچ ایم این اے اور دس ایم پی اے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئیں حالیہ حلقہ بندیوں کے تحت ضلع اوکاڑہ کو 140 یونین کونسلوں اور سات مونسپل کمیٹیوں (اوکاڑہ، دیپالپور، رینالہ خورد، بصیر پور، حویلی لکھا، حجرہ شاہ مقیم اور منڈی احمد آباد) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

تعلیمی لحاظ سے ضلع اوکاڑہ میں بارہ ڈگری کالجز، پانچ ہائر سکینڈری سکولز، ایک سو بتالیس سکینڈری، ایک سو اکاون مڈل سکول، بارہ سو ستاون پرائمری سکول جبکہ ایک یونیورسٹی بھی موجود ہے۔

اس علاقہ میں بسنے والی مشہور ذاتوں میں سید، کھرل، بلوچ، شیخ، آرائیں ، بودلہ، راﺅ، بھٹی، جٹ، کمیانہ،سیال، گجر، کمبوہ، وٹو، جوئیہ، ڈوگر اور بھوہڑ شامل ہیں

اہم شخصیات میں مولانا محمد لکھوی کے بیٹے معین الدین لکھوی ہیں جو ممبر قومی اسمبلی رہے اور انہیں ستارہ امتیازسے نوازا گیا۔ اوکاڑہ کے راﺅ سکندر اقبال سال 07-2002 تک وزیر دفاع رہے۔ میاں منظور وٹو سابقہ وزیر اعلی پنجاب ،میاں محمد زمان وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رہے۔ اب ان کے بیٹے میاں یاور زمان صوبائی وزیر برائے آبپاشی ہیں۔ اس کے علاوہ اوکاڑہ کے سید صمصام بخاری وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات، رانا اکرام ربانی اور اشرف خان سوہنا بھی صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔

مشہور صحافی آفتاب اقبال، جنید احمد، ادیب ظفر اقبال، شاعر اقبال صلاح الدین اور پنجابی شاعر بابو راج علی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔

محمد حنیف جنہوں نے اوکاڑہ پر ایک مشہور کتاب

A CASE OF EXPLODING MANGOES”

لکھی، کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔

یہاں پائے جانے والے درختوں میں کیکر، اوکاں، بیری اور ونڈ پائے جاتے ہیں۔ اوکاڑہ میں آلو کی منڈی ایشیا کی سب سے بڑی منڈی مانی جاتی ہیں۔ اوکاڑہ میں سے گندم، مکئی، ٹماٹر، چاول، کپاس، آم اور مالٹا سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہیں۔

ایک تاریخی شخصیت میر چاکر خان رند، بلوچ قبیلے رند کا سردار تھا جس نے 1518ء میں اوکاڑہ کے علاقہ ستگھرہ کو اپنا مسکن بنایا۔ وہ اپنی فوج کے ہمراہ پنجاب پر حملہ آور ہونیوالی افغان فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ شیر شاہ سوری اور مغل بادشاہ ہمایوں کی لڑائی میں انہوں نے مغل بادشاہ کا ساتھ دیا۔ 1556ء میں دہلی تخت پر بیٹھنے کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں نے میر چاکر رند کو ایک بڑی جاگیر سے نوازا۔ میر چاکر خان رند کی وفات 1565ء میں ہوئی۔ ان کا مقبرہ آج بھی ستگھرہ میں موجود ہے۔

احمد خان کھرل پنجاب کی دھرتی کا وہ سپوت ہے جس نے رنجیت سنگھ کے بعد انگریز کا اس علاقے میں راستہ روکا۔ اوکاڑہ کے گاؤں جھامرے سے تعلق رکھنے والے اس راٹھ نے مقامی قبائل کو ناصرف ایک جگہ اکٹھا کیا بلکہ انگریز کیخلاف بغاوت کیلئے آمادہ بھی کیا۔ اوکاڑہ کے اس سپوت کو 21 ستمبر 1857 کے دن شہید کیا گیا۔

زبان

ضلع کے زیادہ تر لوگوں کی بولی پنجابی ہے اور اس کے بعد زیادہ بولی جانی والی زبان “ہریانوی ” ہے جسے رانگڑی بھی کہتے ہیں . پنجابی بولنے والوں میں زیادہ تر کا لہجہ “جا نگلی ” ہے۔

انتظامیہ

اوکاڑہ شہر تحصیل اوکاڑہ اور ضلع اوکاڑہ کا صدر مقام شہر ہے۔ یہ 10 یونین کونسلوں میں منقسم ہے۔

صنعت و تجارت

سیلہ چاول، آلو اور مکئی کی خرید و فروخت کے لیے اوکاڑہ عالمی منڈیوں میں ایک مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے زرعی آلات پورے پاکستان میں مشہور ہیں

زراعت

اوکاڑہ مکئی اور آلو کی پیداوار میں مشہور ہے۔ ان دو چیزوں کی پیداوار میں اوکاڑہ کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتاہے ۔۔۔۔۔

آج کا اوکاڑہ

یاد رہے آج بھی اوکاڈہ میں سیوریج کا گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے۔ گندے پانی سے سبزیاں تیار کی جاتی ہیں اوکاڈہ کے جنوبی دیہات آج بھی اوکاڈہ کے حکمرانوں سے اپنی سہولیات کے حوالہ سے سوال کرتے ہیں۔

محکمہ زراعت اور محکمہ تعلیم اور محکمہ ہیلتھ جنوبی اوکاڈہ کے دیہاتوں میں کارکردگی کے حوالہ سے اوکاڈہ کی انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہے ۔ماضی میں جنوبی اوکاڈہ کے دیہاتوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے تھانہ شاہبھور حکمرانوں کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا تھا