عمران خان کا اپنی حکومت جاتی دیکھ کر ملک میں مارشل لا لگوانے کا تہیہ

مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری جنرل رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہا ھے کہ عمران خان اپنی حکومت جاتی ہوئی دیکھ کر ملک میں مارشل لا لگوانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں ،ہر مارشل لا سے ملک کمزورہوا ہے،دو سال میں عمران حکومت کی نالائقی اور نااہلی سے معیشت معاشرت ہر شعبے میں ریورس گیئر لگا ہوا ہے بدترین مہنگائی اور بیروزگاری قوم پر مسلط ھےبد امنی اور دھشت گردی اس لئے سر اٹھا رھی ھے کہ عمران حکومت میں وزارت داخلہ مفلوج ھے اسے صرف سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے پر لگا دیا گیا ھے اور آئی بی سمیت سیکورٹی ادارے گلگت بلتستان کے انتخابات میں کی انجینئرنگ میں ھوئے ہیں یہ حکومت مقبوضہ کشمیر کا سودا کر چکی ہے اور سیاسی انتقامی کاروائیوں کے سوا اس کی کچھ کارکردگی ہیں ،عام منصفانہ شفاف انتخابات کرائے جائیں پارلیمنٹ کی بالا دستی ھی ملک کو لاحق چیلنز کا علاج ھے ، انتشار کے خاتمے کے لئے نیشنل ڈائیلاگ اشد ضرورت ھے ،سینٹ ہاوس آف فیڈریشن ھے جو اس کے آغاز کے لئے پہلا قدم اٹھا سکتا ھے۔وہ قاسم آباد میں مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر انور سومرو کی رہائشگاہ پر میڈیا کے نمائنڈوں سے گفتگو کر رھے تھے، اس موقع پر نوازشریف کے ترجمان زبیر احمد، مسلم لیگ سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ، کھیئل داس کوھستانی اور دیگر رھنما بھی موجود تھے۔مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے ہشاور میں دینی مدرسے میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ھناری حکومت نے دھشت گردی کے جن کو بوتل میں بند جر دیا تھا مگر عمران خان کی نا اھل حکومت میں داخلی سیکورٹی کی ڈمہ دار وزارت داخلہ امن و امان بر قرار رکھنے کے لئے کوئی کردار نہیں اس لئے اسے پی ڈی ایم سمیت مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے پر لگا دیا گیا ھے ائی بی اور دیگر سیکورٹی ادارے گلگت بلستان کے انتخابات میں انجینئرنگ میں لگا دیئے ہیں اسی کے نتیجے میںدھشت گردوں کے لئے ماحول سازگار ھو گیا ھے پشاور دینی مدرسے میں کئی بچے شھید اور بڑی تعداد میں زخمی ھوئے ہیں اس سے پہلے وزیررستان اور گوادر میں فورسز پر دھشت گردوں کے حملے میں ایک دن میں 20 فوجی افسران اور سپاھی شھید ھوئے یہ عرصے بعد رونما ھونے والا سانحہ ھے ،انہوں نے کہا میاں نواز شریف دور میں دھشت گردی کے خاتمے معیشت کی ترقی مہنگائی اور بے روزگاری کےخاتمے سمیت مختلف شعبوں میں جو نمایاں کامیابیاں ھم نے حاصل کی تھیں عمران حکومت نے دو سال میں اس کو تیزی سے ریورس گیئر لگا دیا ھے ھم نے معئشت کی ترقی کو تین فیصد سے 8 ..5فیصد تک پہنچا دیا تھا مگر اج عیشت بری طرح کریش ھو گئی ھے مہنگائی بے روزگاری کے 72 سال کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اٹا چینی عوام کی قوت خرید سے باھر ھو گئے ہیں معاشرت کی کیتباھی بر روزگاری غربت تیزی سے بڑھ رھی ھے جس سے نئے مسائل جنم لے رھے ہیں اس طرح ِپورے نظام کے نٹ بولٹ ڈھیلے ھو رھے ہیں انیوں نے کہا اس تباھی کی وجہ یہ ھے ایک اناڑی نا اھل ڈرائیور کے حوالے ملک کی گاڑی کر دی گئی ھے جو روز حادثات کر رھا ھے اور قوم اس تباھی کی سزا بھگت رھی ھے جس نے کبھی ایک یونین کونسل کا نظام بھی نہیں چلایا وہ ملک کیسے چلا سکتا ھے ،انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے ملک اس وقت بڑے سوشل اکنامک بحران میں گھرا ھوا ھے ، ائین قانون جمہوریت بنیادی حقوق شہری ازادیوں کو پامال کر کے ملک کو جبر کے راستے ہر ڈال دیا گیا ھے جس سے بربادی ھو رھی ھے ان کا مقصد ملک میں ون ہارٹِی رول کا راستہ ھموار کرنا ھے جب کہ پاکستان کی اساس ائین جموریت اور ہارلیمنٹ کی بالادستی اور ہی ڈی ایم اسی کے لئے جدوجہد کر رھا ھےپی ڈی ایم رھنماوں پر روز غداری کا الزام لگانے والے ائین جمہوریت بنیادی حقوق کی نفی کر کے خود غداری کے مرتکب ھو رھے ہیں انہوں نے ملک کی تمام سیاسی مذھبی سیکولر قوم ہرست جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں جو ائین اور جمہوریت کی بنیاد پر ملک کو نضبوط بنانا چاھتا ھے ھم ملک کو کمزور کرنے والی ائین شکن جمہوریت دشمن اور جموں کشمیر کا سودا کرنے والیحکومت کو گھر بھیج کر رھیں گے انیوں نے کہا اس حکومت میں لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں بلکہ ھزاروں صحافی بھی اس حکومت میں بے روزگار ھو چکے ہیں پیمرا کے ذریعے بے روزگاری پھیلائی جا رھی ھے جو ٹی وی چینل حزب اختلاف کو کوریج دیتا ھے اس کی نشریات بند کرا دی جاتی ہیں میر شکیل اکرحمن 225 روز سے انتقام کا نشانہ اور جیل میںہیں پہلے کبھی ایسا نہیں ھوا ، ایک سوال پر انہوں نے کہا عمران خان نے شائد تہیہ کر رکھا کہ وہ حکومت جانے سے پہلے بد ترین بگاڑ پیدا کر کے ملک میں مارشل لا لگ جائے ۔نہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور قومی اداروں کی قیادت کو یقینا اس صورت کا پورا احساس اور ادراک ھے اس لئے ملک میں اب مارشل لا نہیں لگ سکتا ،انہوں نے کہا معیشت کی ترقی اسی طرح ایک فیصد اور اس سے کم رہیتو جمہوریت یا مارشل لا کوئی نظام بھی نہیں چل سکے گا انہوں نے کہا میاں نواز شریف کسی ادارے کے خکاف نہیں ہیں جو کیہ رھے ہیں وہ تلخ حقیقت ھے اس سے بہت نقصان ھوا ھے اس لئے سیاست میں مداخلت ختم ھونی چاھئے تمام قومی اداروں کو ائینی اور قانونی حدود میں رہ کر کام کرنا چاھئے انہوں نے کہا نا اھل اور نالائق عمران حکومت نے انتشار پیدا کر کے قوم کو تقسیم کر دیا اس نےمقبوضہ کشمیر کا مودی سے سودا کر لیا پہلے کبھی بھارت کو یہ جرات نہیں ھوئی تھی کہ مقبوضہ کشمیر پراس طرح کے غاصبانہ اور بدترین ظالمانہ اقدامات اٹھائے اس حکومت نے کشمیری مظلوم عوام کے لئے دو سال میں کچھ کرنے کے بجائے بھارت کو ھر طرح کی جارحیت کا ہورا موقع دیا ھے ،جب کہ پی ڈی ایم کشمیری مظلوم عوام کی اواز بنے گا ، احسن اقبال نے کہا کہ نازک حالات میںاس وقت قوم قومی یکجہتی اور اتحاد کی سخت ضرورت ھے جس کے لئے ٹھنڈے دل سے قومی ڈائیلاگ کا اھتمام ہونا چاھئے سب ماضی کی اپنی غلطیوں کا کھلے طور پر اعتراف کریں اور ملک کو ائین قانون پارلیمنٹ کی پالادستی کے نظام کے تحت چلایا جائے ھر ادارہ اہنے ائینی دائرے میں کام کرے اسی سے یکجہتی اتحاد اور ترقی ممکن ھے ،ڈائلاگ کے لئے پہل کون کرے اس سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے ھے کہ سینٹ ہائوس اف فیڈریشن ہے وہ اس سلسلے میں پہلا قدم اٹھا سکتا ہے۔