پاکستان کی طرف سے 5 بھارتی جاسوس رہا

پاکستان کی طرف سے سزا پوری کرنے والے 5 بھارتی جاسوسوں کو رہا کرنے کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث بھارتی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے درخواست پر سماعت ہوئی ، اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ 5 بھارتی قیدیوں کو سزا مکمل ہونے پر 26 اکتوبر 2020 کو رہا کردیا گیا ، جس پر بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اب بھی مزید 3 شہری اپنی سزا پوری کرنے کے باوجود جیل میں ہیں۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے جواب دیا کہ بھارت کے 3 مزید قیدیوں کی حد تک ہدایات لے کر بتاوں گا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ جب سزا مکمل ہو گئی تو آپ کیسے ان کو مزید رکھ سکتے ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہا کہ کچھ قیدیوں کا معاملہ نظرثانی کے لیے بورڈ کے پاس ہے ، اس پر عدالت کی طرف استفسار کیا گیا کہ جب سزا مکمل ہوگئی تو ریویو بورڈ درمیان میں کہاں سے آگیا؟ اگر انہوں نے سزا مکمل کر لی ہے تو انہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے، جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی شہریوں کو رہا کرنے سے متعلق ایک درخواست نمٹا دی ، جب کہ کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرمان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ لاہور کی جیل میں قید 3 اور کراچی کی جیل کے ایک بھارتی مجرم کو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گرد کاروائیوں پر سزا ہوئی ، قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں ، انہیں رہا کرکے واپس بھارت بھیجنے کا حکم دیا جائے۔