لاہور کو انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے سمری کی تیاری شروع

کراچی کی طرزپر لاہور کو انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے سمری کی تیاری شروع کردی گئی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ 2021 میں لاہور دواضلاع میں تقسیم ہوجائے گا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کچھ قانونی روکاوٹیں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قانون سازی کی ضرورت پیش آسکتی ہے. ادھر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی پنجاب نے صوبائی انتظامیہ سے اس سلسلہ میں متعددمشاورتی اجلاس کیئے ہیں اور ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ کراچی کے اضلاغ کی طرح لاہور کے دونوں اضلاع کا نام لاہور ہی رہے گا یا نام بدل دیا جائے گا ؟ تاہم بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کا کہناہے کہ ابتدائی خاکہ یہی ہے کہ اندرون شہر‘داتاگنج بخش ٹاﺅن‘ اقبال ٹاﺅن‘ سمن آباد ٹاﺅن ‘گلبرگ ٹاﺅن‘ شالیمارٹاﺅن اور راوی ٹاﺅن انتظامی طور پر لاہور کا ہی حصہ رہیں گے جبکہ ممکنہ طور پر ‘نشترٹاﺅن‘واہگہ ٹاﺅن اور عزیز بھٹی ٹاﺅن سمیت ملتان روڈ‘رائے ونڈ روڈ اور فیروز پور روڈ پر قائم شدہ نئی آبادیاں دوسرے قائم ہونے والے ضلع کا حصہ ہونگی. ایک اور امکان پر بھی غور کیا جارہا ہے کینٹ ایریاسمیت ڈیفنس اور علامہ اقبال ایئرپورٹ سمیت واہگہ ٹاﺅن اور عزیزبھٹی ٹاﺅن کو ملاکر تیسرا ضلع بنانے کی تجویزپر بھی غور ہورہا ہے تاہم ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی. تاہم لاہور کو انتظامی طور پر دواضلاع میں تقسیم کرنے کے سلسلہ میں پہلی باضابطہ بند کمرہ میٹنگ ہوچکی ہے جس میں لاہور کے ریونیو ریکارڈ اورانتظامی تقسیم کا فارمولہ طے کرنے کیلئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور کمشنر لاہور سمیت دیگرحکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی. ذرائع کے مطابق لاہور کی تقسیم کی حتمی منظوری کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے وزیر اعظم سے بات کی ہے دوسری جانب انتظامی معاملات ‘ممکنہ قانونی رکارٹوں اور دیگر معاملات کا جائزہ لینے کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب نے کمشنر لاہور ڈویژن کو رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے . وزیر اعلیٰ نے صوبے کی انتظامیہ کو 10 دسمبر تک مکمل بریفنگ دینے کا الٹی میٹم دیا ہے شہر کے دو حصوں کی تقسیم پر وزیر اعلی عثمان بزدار چاہتے ہیں کہ دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلہ میں باضابط طور پر بریفنگ دی جائے صوبائی دارالحکومت کی زمینی اور انتظامی تقسیم کی جائے گی. اس سلسلہ میں سنیئر ممبر بورڈ اف ریونیو اور کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران پر مشتمل کمیٹی ایک اورکمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں لاہور کے سی سی پی او ،ڈی سی ،ڈی آئی جی اور ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے افسر بھی شامل ہیں‘شہر کو بڑھتی آبادی کے تناسب سے لاءاینڈ آرڈر اور ٹریفک بہتر کرنے بارے تقسیم کیا جائے گا ذرائع کے مطابق تقسیم سے لاہور پولیس کے نظام میں بھی تبدیلی آئے گی.