کروناوائرس کی دوسری لہر میں شدت شادی 9بجے ختم، بوفے اور بند جگہ تقریب پر پابندی عائد

صوبہ سندھ میں کوروناکی دوسری لہر،محکمہ داخلہ سندھ نے نیا حکم نامہ جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ میں تمام سرکاری ونجی دفاتر اور پبلک مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے کر بند جگہوں پر شادی کیتقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی۔کھلے مقامات پرشادی کی تقریب میں 200 افراد شریک ہوسکیں گے-شادی کی تقریب رات 9 بجے ختم کرنا ہوگی-شادی کی تقریبات میں بوفے کی اجازت نہیں ہوگی،کھانا پیک ڈبوں میں مہمانوں میں تقسیم کرنے کی اجازت ہوگی۔علاوہ ازیں کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے آج سے تمام ریسٹورنٹس میں انڈور ڈائننگ پر پابندی عائد کردی، اب ریسٹورنٹس کو صرف اوپن جگہ پر ڈائننگ کی اجازت ہوگی۔عملدرآمد کے لئے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کردی گئی، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کرائیں۔دوسری جانب ایس او پی نہ ماننے کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ سماجی فاصلے کا خیال نہ رکھنا اور ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دینے کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کراچی کیلئے خطرناک ہوگئی۔کراچی میں کورونا کی دوسری لہر سے بچنے کے لیئے سرکار کا رات دس بجے والا اسمارٹ لاک ڈائون بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ بار بار کی تنبیہ کے بعد بل آخر کراچی پولیسایکشن میں آگئی ہے اور مختلف علاقوں میں ڈنڈہ بھی اٹھالیا ہے۔ریسٹورنٹ اور چائے کے ہوٹل مالکان باز نہیں آرہے اور پولیس موبائل گزر جانے کے بعد دوبارہ شٹر کھول کر کاروبار شروع کردیتے ہیں۔شہریوں کی بڑی تعداد بھی ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے، جبکہ اچانک سانس کی بیماری میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں بھی دو سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند روز میں وینٹیلیٹرز پر موجود افراد کی تعداد بھی دوگنی ہوگئی ہے۔