آج جو کچھ بھی ہوں فیملی کی سپورٹ کی وجہ سے ہوں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کرکٹ میں اپنی کامیابیوں کا راز بتاتے ہوئے کہنا ہے کہ آج جو کچھ بھی ہوں اپنی فیملی کی سپورٹ کی وجہ سے ہوں۔ ‏کپتان بابر اعظم پہلے ٹی ٹونٹی کے کپتان بنے پھر اُنہیں ون ڈے کی قیادت بھی ملی اور اب اُنہیں ٹیسٹ فارمیٹ کا بھی کپتان بنا دیا گیا ہے، وہ نیوزی لینڈ میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں کپتانی کریں گے، بابر اعظم کا شمار اس وقت دنیا کے کامیاب بیٹسمینوں میں ہوتا ہے، وہ تینوں فارمیٹ میں ٹاپ فائیو بیٹسمینوں میں شامل ہیں۔ ‏ بابر اعظم نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہے کہ میں آج جس مقام پر بھی ہوں اپنی فیملی کی وجہ سے ہوں، شروع میں میرے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے، میری والدہ نے کچھ پیسے جوڑے ہو ئے تھے، میں نے کھیلنے کے لیے کٹ لینا تھی، میری والدہ نے جو پیسے جوڑے ہو ئے تھے اُنہوں نے مجھے دے دیے تاکہ میں کٹ لے سکوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ پیسے تین سے چار ہزار روپے تھے، ان پیسوں میں سے شاید پچیس سو یا دو ہزار کا تو صرف بیٹ آ گیا تھا۔ جب میں نے پہلی مرتبہ نئی کٹ دیکھی اور اس کٹ کے ساتھ کھیلا تو اس کی خوشی بیان نہیں کر سکتا، شروع کے دو تین سال میں اسی کٹ کے ساتھ کھیلتا رہا، میں نے اس کٹ کو بہت سنبھال کر رکھا تھا لیکن اب مجھے یہ کٹ مل نہیں رہی، میں نے بہت تلاش بھی کی، کیریئر کے شروعات میں میری یہ ایسی یادیں ہیں جنہیں میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ ‏بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میں فیملی سپورٹ اور بیک کا تو کبھی شکریہ ادا نہیں کر سکتا، میرے والد اور میرے بھائیوں نے مجھے بہت بیک کیا ۔ بابر اعظم نے بتایا کہ خاص طور پر میں یہاں اپنے والد کا زکر کروں گا، وہ مجھے ہر میچ پر لے جاتے تھے اور جب تک میچ ختم نہیں ہو جاتا تھا وہ وہاں موجود ہوتے تھے، میں جب پاکستان انڈر اور پاکستان ٹیم میں بھی آ گیا تو میں جہاں بھی ٹیم کے ساتھ جاتا وہوہاں موجد ہوتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ مجھے ہر طرح سے گائیڈ کرتے تھے، انہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی، اب موجودہ حالات میں میرے والد گھر ہی موجود ہوتے ہیں لیکن اُنہوں نے میری بہت راہنمائی کی ہے۔ بابر اعظم نے بتایا کہ مجھے گھر سے کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہیں تھی، میں نے فکروں سے آزاد ہو کر صرف کرکٹ کھیلی اور اسی پر توجہ دی کیونکہ مجھے والد اور بھائیوں کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔