کامیاب کاشتکاری کے اصول

ایک سمجھدار کاشتکار کو نہ صرف یہ چاہئے کہ وہ اپنی زمین کا ٹیسٹ کروائے بلکہ اس اسے یہ بھی پتا ہونا چاہئے کہ زمین کے تجزئے کی رپورٹ کا مطلب کیا ہے.
آئیے آپ کو زمین کے ٹیسٹ کی رپورٹ بارے تفصیل سے بتاتے ہیں.

سب سے پہلے تو آپ زمین کی ٹیسٹ رپورٹ کا نمونہ دیکھئے.

اس رپورٹ میں نمبر شمار اور تفصیل کے بعد حل پذیر نمکیات کا خانہ ہے. آئیے سب سے پہلے اسی پر بات کرتے ہیں.

نمبر 1. حل پذیر نمکیات یا ای سی (EC یا Electrical Conductivity)

جس طرح نمک پانی میں حل ہو کر پانی کا حصہ بن جاتا ہے بالکل اسی طرح بہت سے نمکیات زمین میں حل ہو کر مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں. زمین میں حل شدہ انہی نمکیات کو حل پذیر نمکیات یا ای سی کہا جاتا ہے. اگر ان نمکیات کی مقدار ایک حد سے زیادہ ہو جائے تو زمین میں سفید کلر پیدا ہو جاتا ہے. زمین میں نمکیات کی مقدار یا ای سی 2 درجے (پی پی ایم) تک ہو تو زمین صحت مند سمجھی جاتی ہے.

اگر زمین میں موجود نمکیات کی مقدار 2 سے 4 درجے تک ہو تو زمین معمولی کلراٹھی سمجھی جاتی ہے. معمولی کلراٹھی زمین، ہمارے ہاں کاشت کی جانے والی زیادہ تر فصلوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے.

لیکن اگر ای سی 4 سے 8 درجے تک ہو تو زمین درمیانی کلراٹھی سمجھی جائے گی. اس طرح کی زمین مکئی، چاول، گنا، کنو اور پھلی دار فصلوں کی کاشت کے لئے زیادہ موزوں سمجھی جاتی.

زیر نظر رپورٹ میں پہلے سیمپل میں حل پذیر نمکیات 1.7 اور دوسرے میں 1.5 ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین سفید کلر سے پوری طرح پاک ہے. لیکن اگر حل پذیر نمکیات کی مقدار 4 درجے سے زیادہ ہوتی تو پھر زمین کو کلراٹھی تصور کیا جاتا اور سیفید کلر ختم کرنے کے لئے سفارش کی جاتی. عام طور پر کاشتکار جپسم کو کلر کا علاج سمجھتے ہیں. لیکن یاد رکھیں کہ جپسم کا استعمال سفید کلر والی زمینوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے. سفید کلر ختم کرنے کے لئے زمین میں گہرا ہل چلا کر کھیت کو نہری یا ٹیوب ویل کے میٹھے پانی سے بھر دیا جاتا ہے. اس سے زمین میں موجود سفید کلر زمین کی تہہ میں بہہ جاتا ہے اور زمین کلر سے پاک ہو جاتی ہے. کلر زیادہ ہونے کی صورت میں یہی طریقہ بار بار دہرایا جاتا ہے یہاں تک کہ زمین سے کلر کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے.

نمبر 2. تعامل یا سائل پی ایچ (Soil pH)

زیر نظر رپورٹ میں دوسرا خانہ زمین کی پی ایچ کا ہے. رپورٹ میں درج زمین کی پی ایچ سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی زمین کس حد تک تیزابی یا کھارے مزاج کی حامل ہے.

اگر زمین کی پی ایچ 7 ہو تو زمین معتدل سمجھی جائے گی. اگر پی ایچ 7 سے کم ہو تو زمین تیزابی اور اگر 7 سے زیادہ ہو تو زمین کھارے مزاج کی سمجھی جائے گی. ایک صحت مند زمین کی پی ایچ 7 کے اوپر نیچے ہونی چاہئے.

ہمارے ہاں پاکستان میں زیادہ تر زمینوں کی پی ایچ 8 سے اوپر پائی جاتی ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر زمینین کھارا مزاج رکھتی ہیں.

اگر زمین کی پی ایچ ساڑھے 7 سے زیادہ ہو تو پودوں کو زمین میں موجود غذائی اجزاء کے حصول میں دقت پیش آتی ہے. اور مناسب مقدار میں خوراک حاصل نہ ہونے کے سبب پودا کمزور ہو جاتا ہے اور پیداوا متاثر ہوتی ہے.
زمین کی پی ایچ اگر ساڑھے 7 سے 8 درجے تک ہو تو ایسی صورت حال میں پودوں کو زنک، آئرن، مینگانیز اور بوران زمین سے جذب کرنے میں مشکل پیش آتی ہے.
اسی طرح اگر پی ایچ 8 سے ساڑھے 8 درجے تک ہو تو پودوں کے لئے زمین سے فاسفورس جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے. مزید یہ کہ مولبی ڈینم کے علاوہ تمام اجزائے صغیرہ پودا زمین سے جذب نہیں کر پاتا. اگر پی ایچ ساڑھے 8 درجے سے اوپر چلی جائے تو زمین بیمار سمجھی جائے گی اور اس بات کا واضح امکان ہوتا ہے کہ زمین کالے کلر سے متاثر ہو چکی ہے. یہی وجہ ہے کہ جس زمین کی پی ایچ ساڑھے 8 سے زیادہ پائی گئی ہو وہاں کاشتکار کو جپسم استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے. دراصل پی ایچ کو کم کرنے یا کالے کلر کو ختم کرنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ جپسم کا استعمال ہی ہے،

البتہ زمین کی پی ایچ سلفر ڈال کر بھی کم کی جا سکتی ہے. پی ایچ کم کرنے کے لئے کاشتکار بیٹری والے تیزاب کا بھی استعمال کرتے ہیں لیکن زیادہ تر ماہرین تیزاب استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں. ان کا کہنا ہے کہ تیزاب ڈالنے سے زمین کی صحت کے کئی اور مسائل جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں.

زیر نظر رپورٹ میں پہلے سیمپل کی پی ایچ 8.1 اور دوسرے کی پی ایچ 8.2 ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمین کی پی ایچ زیادہ ہے. اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس زمین میں فاسفورس کھاد آپ ڈال بھی دین تو پودا سے آسانی سے جذب نہیں کر پائے گا. مزید یہ کہ اس زمین میں مولبی ڈینم کے علاوہ تمام اجزائے صغیرہ مثلاََ زنک، بوران، آئرن، مینگانیز وغیرہ بھی پودا حاصل نہیں کر پائے گا. لہذا زمین کی پی کم کرنے کے لئے جپسم یا سلفر ڈالنا بہتر ہے. اسی طرح مائکر اجزاء زمین میں ڈالنے کی بجائے اگر سپرے کی جائے تو زیادہ فائدہ ہو گا.

دراصل کلر کی مکمل تشخیص کے لئے، ای سی اور پی ایچ کے ساتھ ساتھ مزید 2 قسم کے ٹیسٹ بھی ضروری ہوتے ہیں. پہلا ٹیسٹ ای ایس پی (Exchangeable sodium percentage (ESP) اور دوسرا ٹیسٹ ایس اے آر (Sodium adsorption ratio (SAR) کیا جانا چاہئے. لیکن ہمارے ہاں پنجاب میں سرکاری لیبارٹریوں میں یہ دونوں ٹیسٹ نہیں کئے جاتے. لہذا زمین میں موجود کلر کی تشخیص کے لئے پی ایچ اور ای سی پر ہی انحصار کیا جا تا ہے.

نمبر 3. نامیاتی مادہ (Organic Matter)

رپورٹ میں اگلا خانہ نامیاتی مادے کا ہے. نامیاتی مادہ دراصل زمین میں ڈالے گئے گوبر اور فصلوں کی گلی سڑی باقیات وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے. نامیاتی مادہ زمین میں موجود نمی اور غذائی اجزاء کو اپنی گود لے لیتا ہے جس کی بدولت نمی و غذائی اجزاء، زمین کی تہہ میں جا کر ضائع ہونے کی بجائے زیادہ دیر تک پودوں کی جڑوں کے آس پاس محفوظ رہتے ہیں. جہاں سے پودا ان غذائی اجزاء کو حاصل کرتا رہتا ہے.

دوسری بات یہ ہے کہ نامیاتی مادہ، نائٹروجن کھاد کے متبادل کے طور پر بھی کام کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ جس زمین میں نامیاتی مادہ زیادہ مقدار میں موجود ہو اس زمین کو نائٹروجن کھاد کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی.
پنجاب کی لیبارٹریوں میں براہ راست نائٹروجن معلوم کرنے کا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا بلکہ نامیاتی مادے سے ہی زمین میں موجود نائٹروجن کی مقدار کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے.
زیر نظر رپورٹ میں پہلے سیمپل کے اندر نامیاتی مادے کی مقدار 0.56 اور دوسرے میں 0.44 فیصد ہے.

محکمہ زراعت، حکومت پنجاب کے مطابق اگر زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار 0.86 فیصد سے کم ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ زمین میں نامیاتی مادے کی کمی ہے. اگر زمین میں نامیاتی مادہ 0.86 سے 1.29 فیصد کے درمیان ہو تو اس مقدار کو تسلی بخش مانا جاتا ہے. جبکہ 1.29 سے زیادہ والی زمین نامیاتی مادے کے لحاظ سے اچھی زمین سمجھی جاتی ہے.

زیر نظر رپورٹ کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں نامیاتی مادے کی کمی ہے. یعنی نامیاتی مادہ 0.86 فیصد سے بھی کم ہے.

بین الاقوامی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار 2 فیصد سے زیادہ ہونی چاہئے.چونکہ زیادہ درجہ حرارت اور کم بارشوں والے علاقوں کی زمینوں میں نامیاتی مادہ مسلسل کم ہوتا رہتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں نامیاتی مادہ 2 فیصد سے اوپر لے کر جانے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. چونکہ پنجاب کی زیادہ تر زمینیں گرم علاقے میں واقع ہیں لہذا اگر آپ کی زمین میں نامیاتی مادہ 1.29فیصد سے زیادہ ہے تو اس تھوڑے کو ہی کافی جانئے.

ویسے آج کل کئی ایسے طریقے آ گئے ہیں جن سے گرم اور کم بارشوں والے علاقوں میں بھی نامیاتی مادہ تین چار فی صد تک لے جایا جا سکتا ہے. لیکن یہ طریقے ابھی بہت مہنگے ہیں.

نمبر 4. قابل حصول فاسفورس

ویسے تو بیج کے اگنے سے لے کر فصل پکنے تک کے تمام مراحل میں پودے کو فاسفورس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دو مراحل پر پودے کو فاسفورس کا ملنا انتہائی ضروری ہوتا ہے. پہلا موقع وہ ہے جب زمین میں بویا ہوا بیج اگنے کے بعد اپنی جڑیں بنانا شروع کرتا ہے. جڑیں بنانے کے اس مرحلے پر پودے کو فاسفورس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے. اور دوسرے جب پودے کے سٹے یا پھلی وغیرہ میں بیج یا دانے بن رہے ہوتے ہیں تو اس موقع پر بھی پودے کو فاسفورس کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے. اب آپ کو یہ بات بھی سمجھ آ گئی ہوگی کہ فاسفورس کھاد ہم بجائی کے وقت ہی کیوں ڈالتے ہیں.

اس سے پہلے زمین کی پی ایچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ اگر زمین کی پی ایچ 8 درجے سے زیادہ ہو تو پودوں کے لئے مٹی سے فاسفورس جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے. زیادہ پی ایچ کی صورت میں آپ جتنی مرضی ڈی اے پی یا ایس ایس پی کھادیں زمین میں ڈالتے چلے جائیں پودا ان کھادوں کو جذب نہیں کر سگے گا اور یہ کھادیں زمین میں ویسی کی ویسی بے کار پڑی رہیں گی.

رپورٹ میں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ زمین میں فاسفورس کی کتنی مقدار موجود ہے جسے پودا ضرورت پڑنے پر استعمال کر سکتا ہے. واضح رہے کہ زمین میں ایسی فاسفورس کی بھی اچھی خاصی مقدار پڑی ہوتی ہے جسے پودا ضرورت پڑنے پر حاصل نہیں کر سکتا. لہذا رپورٹ میں فاسفورس کی وہی مقدار درج کی جاتی ہے جو پودے کے لئے قابل حصول ہو.

اگر رپورٹ میں فاسفورس کی مقدار 8 یا 8 درجے (پی پی ایم) سے کم ہو تو فاسفورس کے لحاظ سے زمین کمزور سمجھی جاتی ہے . اگر فاسفورس کی مقدار 8 سے 15 درجے کے درمیان ہو تو فاسفورس کے لحاظ سے زمین درمیانی سمجھی جاتی ہے. لیکن اگر فاسفورس کی مقدار 15 درجے سے زیادہ ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ فاسفورس کے لحاظ سے زمین زرخیز ہے.

زیر نظر رپورٹ کے پہلے سیمپل میں فاسفورس 7 اور دوسرے میں 6.3 ہے. اس کا مطلب ہے کہ زمین کے دونوں سیمپل میں فاسفورس 8 سے کم ہے. لہذا اس زمین کو فاسفورس کے لحاظ سے کمزور سمجھا جائے گا.
زمینوں میں فاسفورس کی کمی پورا کرنے کے لئے ڈی اے پی یا ایس ایس پی کھادیں وغیرہ ڈالی جاتی ہیں.

نمبر 5. قابل حصول پوٹاشیم (Available K)

رپورٹ میں اگلا خانہ قابل حصول پوٹاش کا ہے.
پوٹاش فصل کے بیج یا دانوں کے وزن اور خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے. مزید یہ کہ پوٹاش کھاد فصل میں بیماریوں اور پانی کی کمی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے.

اگر رپورٹ میں پوٹاشیم کی مقدار 80 یا 80 درجے (پی پی ایم) سے کم ہو تو پوٹاشیم کے لحاظ سے زمین کمزور سمجھی جاتی ہے . اگر پوٹاشیم کی مقدار 81 سے 180 درجے کے درمیان ہو تو پوٹاشیم کے لحاظ سے زمین درمیانی سمجھی جاتی ہے. لیکن اگر پوٹاشیم کی مقدار 180 درجے سے زیادہ ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ پوٹاشیم کے لحاظ سے زمین زرخیز ہے. زیر نظر رپورٹ کے پہلے سیمپل میں پوٹاش کی مقدار 140 جبکہ دوسرے میں 120 ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوٹاش کے لحاظ سے زمین درمیانی ہے. پوٹاشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے زیادہ تر ایس او پی کھاد استعمال کی جاتی ہے. البتہ بعض فصلوں میں ایم او پی بھی سفارش کی جاتی ہے.

نمبر 6. زمین کی قسم اور فیصد سیر شدگی (Saturation Percentage & Texture)

ہمارے کاشتکار اپنی زمینوں کے بارے میں خوب جانتے ہوتے ہیں کہ کونسا رقبہ ریتلا ہے، کونسا میرا ہے اور کس ایکڑ کی مٹی چکنی ہے. رپورٹ میں زمین کی قسم کے خانے میں یہی بات درج ہوتی ہے. البتہ ماہرین، زمین کی قسم کا اندازہ زمین کی فیصد سیر شدگی سے لگاتے ہیں. فیصد سیر شدگی دراصل زمین کی پانی پینے کی صلاحیت کو کہتے ہیں.

یہ بات تو ایک عام کسان بھی سمجھتا ہے کہ ریتلی زمین زیادہ اور چکنی زمین کم پانی پیتی ہے. اگر آپ کے کھیت کی ایک کلوگرام مٹی 190 ملی لیٹر پانی جذب کر لے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زمین کی سیر شدگی 19 فیصد ہے. 19 فی صد تک پانی پینے والی زمین، ریتلی زمین کے زمرے میں آتی ہے. اسی طرح 19 سے 30 فیصد پانی پینے والی زمین ریتلی میرا، 30 سے 45 فیصد پانی پینے والی زمین میرا سے درمیانی ، 45 سے 60 فیصد پانی پینے والی زمین بھاری میرا اور 60 فیصد سے زیادہ پانی پینے والی زمین ریتلی زمین سمجھی جاتی ہے.
زیر نظر رپورٹ میں پہلے سیمپل میں سیر شدگی 36 فیصد جبکہ دوسرے میں 37 فیصد ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین درمیانی بھاری میرا ہے.

ریتلی زمینوں میں چنے، گوارہ، مونگ پھلی اور باجرہ وغیرہ بہتر طور پر کاشت کئے جا سکتے ہیں. اسی طرح بھاری میرا یا چکنی زمینیں چاول اور گنے کی کاشت کے لئے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں. جبکہ ریتلی میرا، میرا، درمیانی بھاری میرا اور بھاری میرا زمینوں میں ہر طرح کی فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں.

نمبر 7. اجزائے صغیرہ کا ٹیسٹ

زیر نظر رپورٹ میں اجزائے صغیرہ کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے. پنجاب میں ڈویژن کی سطح پر قائم مٹی و پانی کی تجزیاتی لیبارٹریوں میں اجزائے صغیرہ ٹیسٹ کرنے کی بھی سہولت موجود ہے. ان اجزاء میں زنک، کاپر، آئرن، مینگانیز اور بوران شامل ہیں. نیچے دیئے گئے چارٹ کی مدد سے آپ جان سکیں گے کہ آپ کی زمینیں ان اجزاء کے حوالے سے کمزور ہیں، درمیانی ہیں یا زرخیز ہیں.

لیکن جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ اگر زمین کی پی ایچ 8 درجے تک ہو تو پودا مٹی سے زنک، آئرن، مینگانیز اور بوران جذب نہیں کر پاتا. اسی طرح اگر زمین کی پی ایچ ساڑھے 8 سے زیادہ ہو تو پودا ان چاروں اجزاء کے ساتھ ساتھ مٹی سے کاپر بھی جذب نہیں کر پاتا.

لہذا اگر آپ کی زمین میں اجزائے صغیرہ کی کمی ہو اور زمین کی پی ایچ بھی 8 یا ساڑھے 8 سے زیادہ ہو تو ان اجزائے صغیرہ کو زمین میں ڈالنے کی بجائے پانی میں حل کر کے فصل پر سپرے کر نا زیادہ بہتر ہے.