کلیئر پولوسیک نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں مردوں کے میچ میں پہلی خاتون امپائر بننے کااعزاز حاصل کرلیا

آسٹریلوی کلیئر پولوسیک ٹیسٹ کرکٹ کی 144سالہ تاریخ میں مردوں کے میچ میں امپائرنگ کا حصہ بننے والی پہلی خاتون بننے کااعزاز حاصل کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 32 سالہ پولوسیک نے سڈنی کرکٹ گرانڈ میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان میچ میں چوتھے متبادل امپائر کے طور پر شامل ہو کر یہ اعزاز حاصلکیا۔کلیئر پولوسیک نے گزشتہ برس اپریل میں ورلڈ کرکٹ لیگ ڈویژن ٹو کے فائنل میں نمیبیا اور عمان کے میچ میں امپائرنگ کے فرائض انجام دئیے تھے۔اس سے قبل دسمبر 2018 میں بگ بیش کے ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز اور میلبورن اسٹارز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں کلیئر پولوسیک اور ایلوئز شیریڈن میچ میں ایک ساتھ آن فیلڈ امپائرنگ کرنے والی پہلی خواتین بن گئی تھیں۔کلیئر پولوسیک 2017 میں جے ایل ٹی کپ کے دوران آسٹریلیا کے مینز ڈومیسٹک مقابلوں میں پہلی خاتون امپائر بنی تھیں۔کرکٹ کے میدان میں کلیئر پولوسیک اور نیوزی لینڈ کی کیتھی کراس نے 2016 میں پہلی مرتبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی امپائرنگ کی تھی جب بھارت میں ورلڈ کپ کھیلا جارہا تھا۔آسٹریلیا کی ریاست نیو ساتھ ویلز سے تعلق رکھنے والی کلیئر پولوسیک گزشتہ برس فروری اور مارچ میں ویمنز ورلڈ کپ کے امپائرنگ پینل میں شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق کلیئر پولوسیک کرکٹ آسٹریلیا کے سپلیمنٹری امپائرنگ پینل اور آئی سی سی کے ڈیولپمنٹ پینل میں بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ 32سالہ کلیئر کا امپائرنگ کیریئر 2015 میں شروع ہوا تھا اور انہیں تھائی لینڈ میں منعقدہ ویمنز ٹی ٹوئنٹی کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں ذمہ داریاں دی گئی تھیں جہاں انہوں نے فائنل سمیت 8 میچوں میں امپائرنگ کی تھی،انہیں اب تک خواتین کرکٹ کے 17 ایک روزہ اور تینمیچوں میں تھرڈ امپائر، 33 ویمنز ٹی ٹوئنٹی اور 5 میچوں میں تھرڈ امپائر کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ہے۔آسٹریلیا اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جاری چار میچوں کی سیریز میں کورونا کی عالمی وبا کے باعث سفری پابندیوں کے نتیجے میں امپائرنگ پینل آسٹریلیا سے ہی منتخب کیا گیا ہے۔

جواب دیں