اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کا ساتھ چھوڑ دیا

اپنی نوعیت کی ایک دل چسپ پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ کے کورفوٹوکو ہٹا دیا ہے۔ اس تصویر میں اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں نیتن یاہو کا اس تصویر کو ہٹا دینا یہ تاثر دے رہا ہے کہوہ اپنے سیاسی حلیف سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں جس کو ممکنہ مواخذے کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق وائٹ ہائوس میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو کی ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے یہ تصویر اسرائیلی وزیراعظم کے امریکی صدر کے ساتھ قریبی تعلقات کی علامت کے طور پر طویل عرصے تک نیتن یاہو کے سرکاری ٹویٹر اکائونٹ پر سجی رہی۔اب نیتن یاہو کے اکائونٹ پر ایک دوسری تصویر سجی ہوئی ہے جس میں اسرائیلی وزیر اعظم کرونا کی ویکسین لگواتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ میں اپنے آخری چند روز گزارنے والے وزیر مائیک پومپیو کی جانب سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے موثر اقدامات اور اہم فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں دو باخبر ذرائع نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ مائیک پومپیو ایسی انٹیلی جنس معلومات سے پردہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا مقصد ایران کو علانیہ طور پر القاعدہ تنظیم کے ساتھ روابط رکھنے پر مورد الزام ٹھہرانا ہے۔متعدد امریکی ذرائع نے واضح کیا کہ تہران پر عائد پابندیوں کا سلسلہ نئے ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ بھی جاری رہے گا۔