امریکہ میں بغاوت کا خدشہ،سرد جنگ سراٹھانے لگی،انٹیلی جنس رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے کیپیٹل ہل پر ہونے والی چڑھائی کے عوض امریکہ کو دنیا بھر میں جس قدر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس سے قبل ایسا واقعہ امریکی تاریخ میں شاید ہی کبھی پیش آیا ہو۔ مشتعل افراد کی طرف سے اس بغاوت کو تو کچل دیا گیا تھا تاہم بغاوت کے سراٹھانے کا خطرہابھی بھی باقی ہے۔انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ابھی بھی خطرہ ہے کہ مشتعل مظاہرین سب کچھ ختم کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ چک شومر نے خبردار کیا ہے کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی 20جنوری کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں ہنگامہ آرائی کا خدشہ ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ چک شومر نے کہا ہے کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے سے ہفتے کو بات کی ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ بغاوت پسندوں کا تعاقب کریں جنہوں نے گزشتہ ہفتے کانگریس کی عمارت پر حملہ کیا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر کی جان بھی گئی۔چک شومر نے کہا ہے کہ انہوں نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کو کہا ہے کہ وہ ممکنہ حملوں کی بیخ کنی بھی کریں۔سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کے حامیوں نے چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔عمارت پر ہجوم کے حملے کے وقت وہاں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔پرتشدد مظاہرین کے حملے کے بعد ایوان کی کارروائی کئی گھنٹوں تک تعطل کا شکار رہی تھی۔چک شومر کا کہنا ہے کہ انتہا پسندوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے خطرات اب تک موجود ہیں اور آئندہ چند ہفتے امریکہ کی جمہوریت کے لیے مشکل ہیں۔اسی طرح واشنگٹن کی میئر موریل بازر کی جانب سے ہفتے کو لکھے گئے ایک خط میں قائم مقام ہوم لینڈ سیکیورٹی چیف چڈ وولف کو کہا گیا ہے کہ وہ پیر سے نافذ العمل سختسیکیورٹی ہدایات میں 24 جنوری تک توسیع کر دیں۔میئر نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ وفاقی محکمہ داخلہ نو منتخب صدر کی حلف برداری کے عرصے کے دوران عوامی اجتماع کے لیے اجازت ناموں کی درخواستوں کو بھی مسترد کر دے۔ریاست میزوری سے منتخب سینیٹر روئے بلنٹ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کیتقریب کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول کرونا وائرس کی پابندیوں کے باعث حلف برداری کی تقریب میں محدود افراد کو ہی آنے کی اجازت ہو گی۔امریکی سیکریٹ سروس حلف برداری کی تقریب میں سیکیورٹی کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔سیکریٹ سروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 20 جنوری کو ہونے والی تقریب کو محفوظ بنانے اور ہنگامہ آرائی کے خدشے کو دیکھتے ہوئے بھرپور تیاری کی گئی ہے۔