سعودی لیبر قوانین میں تبدیلیوں پر غور شروع

سعودی عرب نے اپنے لیبر قوانین میں تبدیلیاں لانے پر غور شروع کر دیا ۔روزنامہ نوائے وقت میں جاوید صدیق کی شائع خبر کے مطابق لیبر قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کی منظوری کے بعد کوئی بھی آجر یا کمپنی جو غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرے گی وہ بھرتی کئے گئے کارکن کی ریکروٹمنٹ فیس ادا کرے گی۔ غیر سعودی کارکنوں کے لیے اقامہ کی فیس بھی کارکن کو بھرتی کرنے والی کمپنی ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ وزارت انسانی وسائل جو بھی شرائط رکھے گی ان کے ساتھ فیس غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے والی کمپنی ادا کرے گی۔ لیبر قوانین میں مجوزہ ترمیم میں یہ شق بھی شامل ہے کہ غیر ملکی کارکن کے ورک پرمٹ کی تجدید کی فیس بھی خدمات حاصل کرنے والی کمپنی کے ذمہ ہوگی۔ مجوزہ ترمیمی قانون کے تحت کسی بھی غیر ملکی کا پیشہ پروفیشن تبدیل کی فیس بھی کمپنی ادا کرے گی۔ کارکن کی وطن واپسی کا ٹکٹ بھی کمپنی کے ذمہ ہوگا۔ سعودی اخبار اوکاز کی رپورٹ کے مطابق لیبر قوانین ترمیم پر صلاح مشورہ کے بعد اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پرجرمانے اور قید کی سزا بھی دی جاسکے گی۔ وزارت انسانی وسائل کو غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے والے کمپنیوں پر چھاپے مارنے کا اختیار بھی ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے کئے جائیں گے۔