صارفین پر 177ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ہوشربا اضافہ کا امکان

بجلی کی قیمت میں 2 روپے فی یونٹ تک اضافے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق اضافہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کیا جائے گا جس سے صارفین پر 177 ارب روپے بوجھ پڑے گا۔دوسری جانب آئیسکو میں بجلی بلوں پر ہونیوالی میگا کرپشن پر تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مزید پیش رفت نہ ہونے پر معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا،ڈی جی ایف آئی اے،آڈیٹر جنرل اور اکائوننٹنٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دئیے گئے ہیں،ایک سال میں بیس کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن تسلیم کی جاچکی جو کہ اب اربوں روپے تک پہنچ گئی ہے ،ملزمان دوبارہ ریکوری کیے بغیر بحال بھی ہو چکے ،قوم کا پیسہ کون لوٹائے گا،درخواست گزار کی عدالت سے اپیل ۔دستاویزات کے مطابق آئیسکو میں بجلی بلوں پر 2019 میں ایف آئی اے نے مقدمہ نمبر 10/2019درج ہوا جس میں ملزمان خالد محمود کمرشل اسسٹنٹ ،محمد نعیم آر او آئیسکو ،محمد رفیق اکائونٹ آفیسر اور گل خطاب شامل تھے ،ان ملزمان نے ایک ماہ میں بجلی بلوں کی مدد 4کروڑ 30لاکھ اور بالترتیب ایک سال میں 20کروڑ 77لاکھ روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی،ایف آئی اے نے چند دن تک کرپشن پر تحقیقات میں دلچسپی لی تاہم بعدازاں ٹھنڈا ٹھار کر دیا گیا اور مقدمہ کو کئی فائلوں کی دھول کے نیچے دبا دیا گیا،ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی بلوں پر کرپشن سے متعلق 2013میں آواز اٹھائی گئی تھی مگر کوئی ٹس سے مس نہ ہوا اور پھر 7سال بعد مقدمہ کا اندراج کر کے ایک سال کا حساب کتاب کیا جانے لگا ،دوسری جانب ذرائع کاکہنا ہے کہ2013سے کرپشن کا اندازہ لگایا جائے تو موجودہ بجلی بلوں پر کرپشن 10ارب روپے سے زائد کی ہے ،اس حوالہ سے اب تک سپیشل آڈٹ نہ ہونے کے برابرہے ،اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف ائی اے کی جانب مقدمہ میں شامل ملزمان کو کچھ عرصہ تک شامل تفتیش رکھا گیا اور پھر وہ اپنی نوکریوں پر بحال ہو کر دوبارہ اپنی سیٹوں پرتعینات ہو گئے اور اس میگا کرپشن پر مایہ ناز افسران اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کی موجودگی کے باعث ادنیٰ ملزمان نے فائدہ اٹھا لیا اور اپنے افسران بالا کو بچا لیا گیا،میگا کرپشن کو بے نقاب کرنیوالے شہری سید منظور حسین شاہ نے ایک بار پھر ہائی کورٹ جاکر عدالت سے استدعا کی کہ موجودہ کرپشن 2013سے جاری ہے اورمقدمہ 2019میں درج کر کے ایک سال میں بیس کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کا اعتراف کیا گیا،اب جبکہ ایک بار پھر ہائی کورٹ نے مقدمہ کی بہتر تفتیش اور ملزمان سے ریکوری نہ ہونے اور 2013سے کرپشن کی تحقیقات کی جائیں جس پر عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے ،آڈیٹر جنرل اور اکائونٹنٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔