سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس کی سماعت جہاںآئین خاموش وہاں قانون کا اطلاق ہو گا چیف جسٹس نے واضح کردیا

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے زریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ جہاں آئین خاموش ہوگا وہاں قانون کا اطلاق ہوگا،بتایا جائے سینیٹ کےانتخابات کا طریقہ کار قانون میں کہاں لکھا ہے؟ بھارت نے سینیٹ انتخابات اوپن کرکے اسکا مکمل طریقہ کار وضع کیا۔کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ اگر انٹرا پارٹی یا سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں تو عدالت ان میں نہیں پڑتی،لیکن ازخودنوٹس کے دائر اختیار کے تحت عدالت سیاسی معاملات کا جائزہ لیتی رہی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بناتا ہے سپریم کورٹ تشریح کرتی ہے، سوال یہ بھی ہے ہم تشریح کیسے کریں،اگر عدالت تشریح کرتی ہے تو پھر کیا عدالتی تشریح کو فوقیت حاصل ہوگی،اٹارنی جنرل عدالت کے سیاسی آئینی معاملات میں تشریح کے دو موقف پیش کررہے ہیں،آئین نے سینیٹ کی کمپوزیشن بتائی ہے جبکہ طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں دیا گیا ہے،حکومت کا موقف ہے کہ اقلیتوں کا انتخاب خفیہ نہیں تو پھر سینیٹ کا انتخاب خفیہ کیوں؟جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پرسوال اٹھایا کہ حکومت سینیٹ الیکشن کے حوالے سے وضاحت کرے،سینیٹ کے انتخابات کے لیے تناسب کے تعین کا طریقہ کار قانون میں کیا ہے؟یہاں اوپن اور خفیہ بیلٹ کا معاملہ ہے،دیکھنا ہو گا کہ خفیہ اور اوپن بیلٹ میں کیا فرق ہے؟صدر کے الیکشن میں کچھ گھنٹے نہیں پورا دن لگجاتا ہے۔اٹارنی جنرل نے اس موقع پر دلائل دئیے کہ وفاق نے رائے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا،اگر آئین میں تشریح درکار ہو تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے،حکومت کا مقدمہ یہ ہے کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کی جائے،آئین کی تشریح کا فورم پارلیمنٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے۔سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا آئین کی تشریح کا اختیار ہمیں حاصل ہے،یہی میرے دلائل کا نچوڑ ہے،23 سال پہلے سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا سیاسی اور غیر سیاسی سوالات کے درمیان تفریق کیے بغیر فیصلے کیے جائیں، ہر ملک میں آئینی معاملات کی تشریحکے لیے سپریم کورٹ یا پھر آئینی عدالت ہوتی ہے،ہماری سپریم کورٹ ہی آئینی عدالت ہے،بنگلہ دیش بھارت سری لنکا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک میں سپریم کورٹ آئینی و سیاسی معاملات میں آئین کی تشریح کرتی ہے،اگر آئینی معاملات پر سیاسی معاملات غالب آجائیں تب عدالت ان معاملاتسے گریز کرتی ہے،متعدد مرتبہ سپریم کورٹ سیاسی معاملات کی بھی تشریح کر چکی ہے،ہماری سپریم کورٹ اکثر سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ کو بھجتی رہی ہے،اگرچہ آئین نے سپریم کورٹ کو اختیار دیا ہے لیکن پھر بھی عدالت نے معاملات واپس بھیجے،عدالت خود کہ چکی ہے کہاسے تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے،اگرچہ عدالت بہت سے معاملات پارلیمنٹ کو بھیج چکی ہے لیکن عدالت اپنی نظیروں کی پابند ہے،9 رکنی بنچ مختلف معاملات میں دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ دے چکا ہے،اب اس پانچ رکنی بنچ میں صدارتی ریفرنس آیا ہے تو اس کا جواب اب آپ کودینا ہے،میں حکومت میں یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ معاملہ آرٹیکل 226 کے لیے معاملہ پارلیمنٹ لے جائے،سپریم کورٹ کے جج صاحبان آئین کے تحت حلف لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود آئین کی تشریح بھی کرتے ہیں،سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کا اختیار اسی آئین نے دیا ہے،عدلیہکو سیاسی پہلوؤں کے حامل مقدمات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ حسب بل کیس میں آرٹیکل 186 کی تشریح کر چکی ہے،اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سنجیدگی سے سوچا کہ معاملہ دوبارہ پارلیمنٹ کو بھیجا جائے،لیکن ایسا کرنادرست نہیں سمجھتا۔اگرآرٹیکل میں ترمیم درکار ہے تو معاملہ پارلیمنٹ بھیجا جائے،اس معاملے میں ترمیم نہیں بلکہ تشریح درکار ہے ،آئین کی تشریح کااختیار صرف اسی عدالت کے پاس ہے، اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے گزشتہ روز کے سوالات پر بات کرناچاہتا ہوں،جسٹس یحییٰ آفریدی نےکہاتھا یہ معاملہ اخلاقی ہے ناکہ قانونی،اس عدالت کے تین دائرہ اختیار ہیں ،اختیار آرٹیکل 184 ون آرٹیکل 184 تھری اورآرٹیکل 186 کے تحت ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آرٹیکل پر معاونت کریں کہ آئین کی تشریح کیسے کریں ،بنیادی سوال ہے کہ کون اس آرٹیکل کی تشریح کرے گا۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ریفرنس کی بنیاد ہے سپریم کورٹ آرٹیکل 226 کی تشریح کرے ،سپریم کورٹ نے کبھی خود کو آئین سے بالاتر نہیں قراردیا ،سپریم کورٹ آئین کے تابع ہے ،ہمیشہ آئین کی بالادستی کی ہے،سپریم کورٹ نے ہی آئین کی تشریح کرنی ہے،آئین کی تشریح کااختیار آئین نےہی اعلیٰ عدلیہ کو دیا۔اٹارنی جنرل نے مزید کہاکہ عدالت دو حکومتوں کے درمیان تنازعات پر فیصلہ کرسکتی ہے ،سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے خلاف اپیلیں بھی سنتی ہے ،سپریم کورٹ ریفرنس پر مشورہ اورگائیڈلائن بھی دے سکتی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ اوپن بیلٹ کیلئے آرٹیکل 226 میںترمیم ضروری ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پارلیمان قانون بناتی اور عدلیہ اس کی تشریح کرتی ہے۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ سپریم کورٹ اپیلٹ فورم کے ساتھ آئینی عدالت بھی ہے ،امریکی سپریم کورٹ کے پاس ریفرنس پر رائے کااختیار نہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہسپریم کورٹ کے بعد کوئی اپیلٹ فورم موجود نہیں ،عدالت کو انتہائی احتیاط سے کام لینا ہوگا ،اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت نے کبھی سیاسی معاملات پر بات نہیں کی ،سپریم کورٹ نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کااختیارپارلیمنٹ کو دیا ،ہٹلر بھی ایک جمہوری شخص اور منتخب ہوا تھا،اگر مستقبلمیں کوئی کھڑا ہو کر کہے کہ میں خلیفہ ہوں اور یہ ملک خلافت ہے تو سپریم کورٹ اسکی بلکل اجازت نہیں دے گی ،عدالت نے صد رکو اسمبلی توڑنے کااختیار دیا تھا، نوازشریف کیس میں اسمبلی تحلیل کرنے حکم کالعدم قراردیا گیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ عدالت کیتشریح کے تو سب پابندہوں گے ،اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت کے پاس اختیار ہے وہ کسی طرح آرٹیکل 226 کی تشریح کرے ،صدر،وزیراعظم اورسپیکر انتخاب ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکتے،آرٹیکل225 کے تحت عام انتخابات ٹربیونل میں چیلنج ہو سکتے ہیں،آئین میںسینیٹ کی کمپوزیشن کا بتایا گیا ہے،قومی اسمبلی کے انتخابات براہ راست ہوتے ہیں،سینیٹ کے انتخابات ڈائریکٹ نہیں بلکہ ان ڈائریکٹ ہوتے ہیں،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے تناسب سے سینیٹ کے اراکین کا انتخاب ہوتا ہے، الیکشن ایکٹ 2017 میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاںاور قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا طریقہ کار موجود ہے،الیکشن ایکٹ 2017 کے باب 7 میں سینیٹ کا مکمل طریقہ کار دیا گیا ہے،سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت نہیں بلکہ قانون کے تحت ہوتے ہیں،اسی لیے حکومت سپریم کورٹ آئی ہے کہ عدالت سے رائے لے سکے۔ان دونوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے صرف اوپن بیلٹنگ میں بیلیٹ پیپر کے پیچھے ووٹ ڈالنے والے نام لکھا ہوگا،اسکا مقصد یہ ہے معلوم کیا جا سکے کہ کس رکن اسمبلی نے کس امیدوار کو ووٹ دیا،چیف جسٹس نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ بتایا جائے کہ عام انتحابات کتنے مراحل پر مشتملہوتے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پہلے حلقہ بندی ووٹر لسٹیں اور ریٹرننگ افسران کی تعیناتی ہوتی ہے،دوسرے مرحلے میں انتخابی عملہ تعینات اور شیڈول جاری ہوتا ہے،الیکشن قومی اسمبلی کا بھی ایک دن ہوتا ہے لیکن انتخابی عمل بہت طویل ہے،سینٹ الیکشن میں بھیپہلے ریٹرننگ اور پریزائڈنگ افسران تعینات ہوتے ہیں،عدالت قرار دے کہ سینٹ الیکشن قانون کے تحت ہوتا ہے قانون میں ترمیم ہوگی،الیکشن ایکٹ کی سیکشن 122(6) میں ترمیم کو مسودہ تیار ہے،عدالت نے سینٹ الیکشن آئین کے تحت قرار دیا تو بہت پیچیدگیاں ہونگی،ایسے میں سینٹالیکشن کی مخصوص نشستوں پر الیکشن ناممکن بجائے گا،آرٹیکل 226 کے تحت رائے شماری خفیہ ہو گی،آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوا تو مخصوص نشستوں کی نمائندگی نہیں ہوسکی گی،اوپن بیلٹ میں بھی ووٹرز پہلے کی طرح ہی ووٹ دیں گے،بیلٹ پیپر کے پیچھے ووٹر کا نام لکھاہو گا،صدر کے الیکشن کا پورا طریقہ کار آئین میں درج ہے جبکہ سینٹ کا نہیں۔بعد ازاں معاملہ کی سماعت آئندہ پیر تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔