گلگت بلتستان الیکشن، ن لیگ نے وائٹ پیپر جاری کردیا

پاکستان مسلم لیگ (ن)نے گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کر تے ہوئے گلگت بلتستان میں از سر نو الیکشن کرانے کا مطالبہ کر دیا جبکہ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ 2018 کا ری پلے گلگت بلتستان میں کیاگیا ،جی بی چیف الیکشن کمشنر سے شکایت کی تو جواب دیا میں کیا کروں میری کوئی نہیں سنتا ،آزاد کشمیر اور گلگت کے انتخابات میں بڑا فرق ہے، کشمیر میں کسی کو دھاندلی کی اجازت نہیں دینگے ،بہتر سال میں ووٹ کی عزت کے ساتھ ڈرامہ کیا جاتا رہا ہے ،پاکستان کے 22 کروڑ عوام اپنے ووٹ کا حق مانگ رہے ہیں،گلگت حساس خطہ ہے ، سی پیک کی وجہ سے اسٹریٹجک ہے،ضروری تھا جی بی میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہونے دیں ،گلگت بلتستان میں از سر نو الیکشن کرایا جائے جب سلیکٹڈ حکومت کو مسلط کیا جائے گا تو امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی ۔پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ 2018 کا ری پلے گلگت بلتستان میں کیا گیا جس پر افسوس ہے،ہم کہتے رہے کہ ووٹ کی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے،پاکستان کے 22 کروڑ عوام اپنے ووٹ کا حق مانگ رہے ہیں،مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کر دیا ۔احسن اقبال نے کہاکہ 2018ء میں انتخابات میں دھاندلی کے زریعے سلیکٹڈ حکمران مسلط کرنے کا تجربہ کیا گیا ،اس کا ری پلے گلگت الیکشن میں کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ عوام ووٹ کی عزت کا حق مانگ رہے ہیں ،جس ملک میں ووٹ کی عزت نہیں کی جاتے،اس کی سالمیت خطرے میں پڑ جاتےہیں،ہم نے ووٹ کی عزت کو پامال کرنے آدھا ملک کھو دیا۔ انہوں نے کہاکہ بہتر سال میں ووٹ کی عزت کے ساتھ ڈرامہ کیا جاتا رہا ، کھیل کھیلا جاتا رہا اور ریاست اپنا آدھا وجود کھو چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ باقی ملک میں ہچکولے آتے ہیں کیوں کہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، گلگت حساس خطہ ہے ، سی پیک کی وجہ سےاسٹریٹجک ہے،ضروری تھا جی بی میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہونے دیں تاکہ وہاں دشمن کو عدم استحکام پیدا کرنے کا موقع نہ ملے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی تشکیل خون خرابے سے نہیں ،ووٹ کی عزت سے ہوئی،72 سالوں میں پاکستان میں ووٹ کی عزت کے ساتھ ڈرامہ کیا گیا،اس کا نتیجہ یہ ہے 1947 کے بعد ریاست نے اپناحصہ کھو دیا،گلگت بلتستان سی پیک کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔احسن اقبال نے کہاکہ گلگت بلتستان میں مسلم لئگ ن نے تاریخی ترقیاتی کام کیا لیکن گلگت کی عوام کو حق نہیں دیا گیا کہ وہ خدمت کرنے والی حکومت کو دوبارہ منتخب کرے ۔ انہوںنے کہاکہ حافظ حفیظ الرحمان کے آخری دنوں میں مسلم لیگ ن کے کیسے ہاتھ پاؤںباندھے گئے۔ انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں تاریخی منصوبے (ن )لیگ نے شروع کیے،گلگت بلتستان کے عوام کو حق نہیں دیا گیا کہ وہ خدمت کرنے والے لوگوں کو ووٹ دیں،وہاں من پسند سیاسی نگران حکومت قائم کی گئی۔احسن اقبال نے کہاکہ میں نے جی بی چیف الیکشن کمشنر کو شکایات کی ،تو سی ای سی نے بے بسی سے کہا کہمیں کیا کروں میری کوئی نہیں سنتا ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کہا کہ اگر کوئی نہیں سنتا تو مستعفی ہو جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی طرح گلگت بلتستان میں بھی سیلیٹڈ حکومت مسلط کی گئی ،پی ٹی آئی کو بدترین دھاندلی کے ساتھ بھی صرف اٹھ نشستیں ملیں ،آزاد امیدواروں کو دباو دیکر پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ نگراںسیٹ اپ کے حوالے سے وزیر امور کشمیر ، اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلی نگران وزیراعلی نامزد کرتا ہے ،افسوس اس بار اس قاعدے کو ہی بلڈوز کردیا گیا ،14 نگراں وزرا ء لگاکر لوگوں کو توڑا گیا ،22 اگست انتخابات لازم ہونا تھے، بغیر بتائے الیکشن شیڈول کو چیف الیکشن کمشنر نے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا ،ہمارا ایک بھیایلیکٹیبل نہیں ٹوٹا تھا مگر اس کے بعد امور کشمیر نے ہماری پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی ،اس سے قبل پی ٹی آئی کے پاس امیدوار ہی نہیں تھے۔حافظ حفیظ الرحمان نے کہاکہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کو سیل کیا گیا ،ہم نے جی بی کی اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کیا ،مققتدر حلقوں نے یقین دہانی کرائی ، ہم نے اسمبلی نہیں توڑی ،چیفالیکشن کمیشنر کی تعیناتی میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔ حافظ حفیظ الرحمان نے کہاکہ گلگت بلتستان الیکشن میں ہمارے بندے توڑے گئے ،چیف الیکشن کمشنر نے بتایے بغیر الیکشن شیڈیول غیر معینہ مدت تک ملتوی کیا ،اس وقت تک مسلم لیگ ن کا کوئی بندہ نہیں ٹوٹا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے آٹھ لوگوں کو پارٹی کراس کرائی ،چار وزراء نے جماعت چھوڑ دی ،ہماری جماعت کو توڑ کر ، بندے چھین کر انھوں نے الیکشن شیڈیول دیا ،پھر ان افراد کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا۔حافظ حفیظ الرحمان نے کہاکہ اتفاق ہوا کہ جی بی کو صوبہ بنانے کی بات الیکشن کے بعد ہو گئی،یکم نومبر کو فوج کی زیر نگرانی ایک تقریب منعقد ہوئی ہوئی ،وہاں پر عمران خان نے جیبی کو آئینی صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا ،ہم نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ، کورٹ نے وزراء کو جی بی سے نکالنے کا حکم دیا ،پی ٹی آئی کے وزراء نے کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھیکا ،جی بی کا الیکشن مکمل کنٹرول کیا گیا ، ہر سطح پر بے ضابطگی کی گئی۔حافظ حفیظالرحمان نے کہاکہ گلگت بلتستان کے سارے وزراء ممبران اسلام آباد میں بیٹھے ہیں ،انھیں کہا گیا آپ جی بی میں کیوں نہیں رہتے ،وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کونسا عوام نے چنا ہے۔حافظ حفیظ الرحمان نے کہاکہ گلگت بلتستان میں نئے پاکستان کا منحوس سایہ پڑ گیا ہے،گلگت بلتستان میں از سر نو الیکشن کرایا جائے۔احسن اقبال نے کہاکہ اگر یہسلسلہ نہیں رکا تو پاکستان کو سول جنگ کی طرف جھونک دیا جائے گا ،قومی ادارواں کو کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے اندر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ووٹ کی پامالی ہے۔حافظ حفیظ الرحمان نے کہاکہ ہم نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چیف کورٹ سے رجوع کیا ،عدالت نے انہیں 24 گھنٹے میں چلے جانے کا حکم دیا مگر وزرا نےاسے بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ،وائٹ پیپر میں ہم نے تمام حقائق سامنے رکھ دیئے ہیں ،گلگت بلتستان میں آنے والی سلیکٹڈ حکومت ساری کی ساری اسلام آباد میں بیٹھی ہے ،ہمارے دور میں ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا ،پندرہ لاکھ ٹوریسٹ گلگت بلتستان آئے ،اب ہمیں وہاں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہونے پر تشویشہے ۔ انہوںنے کہاکہ جب سلیکٹڈ حکومت کو مسلط کیا جائے گا تو امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی ،ہم نے جی بی کو نئے پاکستان سے بچانے کی بھرپور کوشش کی مگر یہ نحوست وہاں مسلط کردی گئی ہے ،گلگت بلتستان کی تمام جماعتیں حالیہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آزاد کشمیر اور گلگت کے انتخابات میں بڑا فرق ہے، کشمیر میں کسی کو دھاندلی کی اجازت نہیں دینگے ،اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کو انارکی،عدم استحکام کی جانب جھونک دیا جائے گا ،پاکستان کے قومی اداروں کو کہنا چاہوں گا کہ عدم استحکام کی بنیادی وجہ ووٹ کی پامالی ہے ،مشرقی پاکستان ووٹ کو عزت نہ دینے کی وجہ سے ہی الگ ہوا ،جس روز سے پی ڈی ایم بنی ہے حکومتی ترجمان پی ڈی ایم کو ہر اجلاس پر توڑتی ہیں اور اپوزیشن اتحاد مزید مضبوط ہوجاتا ہے ۔ احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ اتنا تاریخی ہوگا کہ لوگ ماؤ چیئرمین کی تحریک بھول جائینگے۔