اوکاڑہ، تدفین کے معاملے پر گورکن حضرات کی ہٹ دھرمی، سرکاری ریٹ سے کئی گنا زیادہ اضافہ

اوکاڑہ(ملک ظفر) جینے کے ساتھ مرنا بھی دشوار ہو کر رہ گیا مرنے کے بعد تدفین کے معاملے پر گورکن حضرات کی ہٹ دھرمی اور سرکاری ریٹ سے کئی گنا زیادہ اضافہ سے غریب متوسط طبقہ پریشان کمشنر ساہیوال کو نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ شہر کا سب سے قدیم اور بڑا قبرستان گھوڑے شاہ ہے جہاں بڑی اراضی پرہزاروں قبریں بنی ہوئی ہیں جب کوئی شہری انتقال کرتا ہے تو سب سے پہلا مرحلہ قبر کشائی کا ہوتا ہے جس کی سرکاری فیس دو ہزار روپے ہے لیکن گورکن مافیا جس کا تعلق ایک ہی خاندان سے وہ اس قبرستان میں اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں گورکن قبر کشائی کے لیے شہریوں سے پندرہ سے بیس ہزار روپے وصول کر رہا ہے پیسے کم دینے پر گورکن مافیا اکٹھا ہو کر تدفین کے لیے آنے والے افراد کے سامنے مرنے والے کے لواحقین کی نہ صرف تذلیل کرتا ہے بلکہ غلیظ زبان بھی استعمال کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے اس حوالے سے شہریوں نے متعدد بار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ،اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ نے اس حساس نوعیت کے معاملہ پر کبھی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے عام شہری پریشان ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب آدمی جینے کے ساتھ اب اس کا مرنا بھی مشکل ہو چکا ہے شہریوں نے کمشنر ساہیوال نادر چٹھہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے گورکن حضرات کو پابند کیا جائے کہ سرکاری ریٹ آویزاں کریں اور اوور چارجنگ پر ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔