حکومت فلیئر گیس کوایل این جی اورسی این جی بنا کر فروخت کریگی، منصوبے پر بڑی پیشرفت بھی ہوگئی

حکومت فلیئر گیس کو ایل این جی اور سی این جی بنا کر فروخت کریگی۔ عالمی پریکٹس کے مطابق فلیئر گیس ورچوئل پائپ لائن (ٹرک) کے ذریعے انڈسٹری کو دیگی۔ اس کیلئے اوگرا نے منگل کو دو لائسنس ملکی کمپنیوں کو جاری کردیئے جن کے نام ENER GAS مارکیٹنگ لمیٹڈ اور TABEER ENERGY پرائیویٹ لمیٹڈبتائے گئے ہیں۔ روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر یہ بات پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری یاسر رضا چوہدری نے بتائی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی اقدام سے قدرتی وسائل کے ضیاع کا خاتمہ اور قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہو گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی خریدنے میں ناکام ہو گئی۔اس بات کا انکشاف نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کیا گیا، انکشاف کیا گیا کہ جمعے کو مارچ کے ایل این جی ٹینڈر میں بھی حکومت کو 22 اعشاریہ دو فیصد کا ریٹ ملا، جنوری میں دیر سے ٹینڈر کی وجہ سے پہلے ہی عوام اور انڈسٹری پریشان ہیں۔پروگرام میں کہا گیا کہ پانچ ماہ کی مسلسل تاخیر سے حکومت کو یا تو ایل این جی ملی ہی نہیں لیکن جب ملی تو تاریخ کے مہنگے ترین ریٹ پر ملی، انکشاف کیا گیا کہ حکومتی نااہلی کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کانقصان پہنچ چکا ہے۔ایک خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے مہنگی ایل این جی خرید کر قومی خزانے کو 30 ارب سے زائد کا نقصان پہنچانے کے بعد اپنی پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی تھی۔سردیوں میں بار بار دیر سے ٹینڈر کر کے مہنگی ایل این جی خریدنے،غلطی ماننےسے انکار کرنیوالی حکومت نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے اپریل کیلئے ایل این جی خریدنے کے سلسلے میں 3 ماہ پہلے 31 دسمبر کو ہی اشتہار دے دیاتھا، اس سے پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر اپنیغلطی ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔سردیوں میں مہنگی ایل این جی خریدنے کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف 35 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا بلکہ جنوری کے پہلے 20 دن کیلئے ایل این جی کے سپلائرز آئے ہی نہیں۔ ایل این جی نہ ملنے کے باعث ہی عوام گیس کا بحران بھگت رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔