2021 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 1.5 فیصد اور 2022ء میں 4.4 فیصد تک پہنچ جائے گی

موڈیز نے پاکستان کوخوشخبری سنائی ہے کہ2021ء میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 1.5فیصد ہوجائے گی، مہنگائی کی شرح بھی 8 فیصد سے کم ہوجائے گی، نجی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی 5سے 7فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2022ء میں معاشی شرح نمو4.4 فیصد ہوجائے گی۔ تفصیلات کے مطابقعالمی اقتصادی ادارے اور ماہر معیشت اور ایجنسیز کے نزدیک پاکستان کی معیشت 2021ء میں ترقی کرجائے گی۔ موڈیز نے پاکستان کو خوشخبری سنائی ہے کہ کورونا کے باوجود بینکنگ آؤٹ لک مستحکم ہوگیا ہے، بینکاری سیکٹر میں ترقی کے امکان ہیں،پاکستان کی 2021ء میں معاشی شرح نمو 1.5فیصد ہوجائے گی، نجی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی 5 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، مہنگائی کی شرح بھی 8 فیصد سے کم ہوجائے گی۔اسی طرح 2022ء میں معاشی شرح نمو4.4 فیصد ہوجائے گی۔پاکستان میں شرح نمو طویل المدتی مستحکم ہوجائے گی۔موڈیز نے مزید بتایا کہ بینکوں کی ٹھوس فنڈنگ کی عکاسی کرتا ہے یہ منافع پر وزن ڈالے گا۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے قرضوں کو پروفائل مستحکم ہے،2021ء میں بزنس انڈیکس بھی بہتر ہوگیا ہے، پاکستان کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کیلئے دنیا کے چند اہم ممالک میں شمار ہوگیا ہے، پاکستان ورلڈ بینک کی رینکنگ میں 136سے 108ویں نمبر پر آگیا ہے۔کاروبار اگر شروع کرنا ہے تو پاکستان اس میں بھی بہترین ممالک میں شامل ہوگیا ہے اس میں 58 نکات کی بہتری آئی ہے۔ 2020 میں بینکوں کے ڈیپازٹ میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، بینکوں نے لوگوں کو کاروبار کیلئے 338ارب کے قرضے جاری کیے،اسی طرح بینکوں کے ڈیپازٹ میں 3 ہزار244ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ مزید براں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صرف چھ ماہ میں پاکستانی 46 ارب کی چائے پی گئے ہیں، اسی طرح 6 ماہ میں ایک کھرب 53 ارب کے موبائل فون درآمد کیے گئے، اسی طرح چھ ماہ میں ایک کھرب چھ ارب کی گندم، 47 ارب کی دالیں اور 46 ارب کی چائے درآمد کی گئی اور تقریبا 8ارب کا ڈرائی فروٹ درآمد کیا گیا۔