مقبوضہ کشمیر میں برفباری کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، لوگوں گھروں میں قید ہو گئے

مقبوضہ کشمیر میں 30 سال بعد شدید ترین برفباری ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں پانچ پانچ فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی برفباری سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ لوگوں کو راشن حاصل کرنےمیں دشواری پیش آ رہی ہے۔ پرندوں کو بھی خوراک کی تلاش ہے۔کئی دنوں سے سڑکوں پر جمی برف کو صاف نہیں کیا جا سکا ہے اور لوگوں کو اپنے روز مرہ کے معمولات کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ برف میں دو چار قدم چلنا بھی کوئی پہاڑ عبور کرنے سے کم نہیں ۔ریستوان کی ایک عمارت جو برف میں مکمل طور ڈھک گئی ہے۔مقبوکشمیر میں ہر سال ہی برفباری ہوتی ہے اور لوگ شدید موسم اور برفباری کے عادی ہیں لیکن اس سال اس کی شدت کہیں زیادہ ہے۔ سرد موسم اور برفباری سے گنجان آباد علاقے بھی سنسان پڑے ہیں ہر شے پر برف کی سفید چادر جمی ہوئی ہے اور سردی کی شدت میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ لوگ حیران ہیں کہ موسم کی شدت میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور کبھی کبھار کوئی گاڑی نظر آ جاتی ہے ۔سردی کی شدت سے ہر چیز منجمد ہو گئی ہے۔سرد موسم میں گرم کپڑوں کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے.سرینگر میں گرم کپڑے دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ بسیں اور بڑے ٹرک بھی برف میں دھنس گئے ہیں۔سری نگر کے ایک دکاندار نے بتایا کہ دستانوں، اونی جرابوں اور ٹوپیوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہر طبقے کے لوگوں گرم کپڑے خرید رہے ہیں۔ سڑکوں پر جمی برف کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدو رفت میں بھی دقت پیش آ رہی ہے اور لوگ انتظامیہ اور حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کے سامنے سے خود برف صاف کر رہے ہیں ۔مرکزی بازاروں میں بھی سڑک کے دونوں جانب برف کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انتظامیہ نے کووڈ ویکسین کو برف سے متاثرہ بعض علاقوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا۔