کورونا وائرس کی شدت میں مزید اضافہ، چین نے پی آئی اے سمیت تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کر دیں

چین نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)، ایئر چائینہ، ترکش ایئرلائنز، مصر کی ایئر لائنز اور سیچوائن ائیر لائنز کی چین آنے والی پروازوں کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ پی آئی اے کی پرواز پی کے 854 چار ہفتوں تک، جس کا آغاز 18 جنوری سے ہو گا، چین کے لیے اڑان نہیں بھر سکے گی۔ چین کیسویل ایویشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس پرواز میں دو جنوری کو دس مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ گذشتہ سال 31 دسمبر کو ایئر چائنہ کی جوہانسبرگ شینزن فلائیٹ سی اے 868 میں پانچ مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد اس پرواز کو دو ہفتوں، جس کا آغاز 18 جنوری سے ہو گا، کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ جنوری 16 کو چینی حکام نے چار مختلف پروازوں کے لیے ہدایات نامہ جاری کیا جس میں ترکش ائیرلائنز کی فلائیٹ ٹی کے 72 جو استنبول سے گوانزو جاتی ہے، مصر کی ائیر لائنز کی فلائیٹ ایم ایس 958 جو قاہرہ سے گوانزو جاتی ہے، ائیر چائنہ فلائیٹ سی اے 946 جو کراچی سے چین کے شہر ڑیان کے لیے پرواز بھرتی ہے اور سیچوائن ائیر لائنز کی فلائیٹ 3U8392 جو قاہرے سے چینگدو روانہ ہوتی ہے۔30 دسمبر کو ترکش ائیر لائنز میں پانچ مسافروں میں وائرس کی تشخیص ہوئی اور مصر کی ائیر لائنز میں چھ مسافروں کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے۔ یہ دونوں پروازیں 18 جنوری سے دو ہفتے کے لیے معطل رہیں گی۔ جنوری 2 کو ائیر چائنہ کی کراچی سے ڑان تک کی پرواز میں نو مسافروں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس پرواز کو بھی 18 جنوری سے دو ہفتوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔ جنوری 2 کو ہی سیچوان ائیرلائنز کی قاہرہ سے چینگدو کیپرواز میں بھی پانچ مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ 25 جنوری سے یہ پرواز دو ہفتوں کے لیے معطل رہے گی۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کی سول ایویشن ایڈمنسٹریشن نے 16 دسمبر 2020 پروازوں کو معطل کرنے سے متعلق اپنی ایک سال قبل والی پالیسی میں جدت لائی ہے۔نئی پالیسی کے تحت اگر پانچ مسافروں تک کورونا وائرس سے متاثر ہوں گے تو پھر ایک ہفتے سے دو ہفتوں تک یہ پروازیں معطل کی جائیں گی۔اگر وائرس متاثرین کی تعداد دس تک پہنچتی ہے کہ تو ایسی پرواز کو چار ہفتوں تک کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔