نیب نے براڈ شیٹ سے تصفیہ میں 15لاکھ پائونڈ ادا کئے، 15 لاکھ ڈالرز گنوادئیے ، مزیداہم انکشافات

نیب نے بھٹو اور شریف خاندانوں کے خلاف تصفیے کے سمجھوتے کر نے اور تحقیقات کے لئے خدمات حاصل کر نے والی دو کمپنیوں سے تعلق ختم کر نے کے لئے ایک کو 15 لاکھ پائونڈ اور دوسری کو 15 لاکھ ڈالرز ادا کئے ۔بعد ازاں ایک جعلی کمپنی کوپندرہ لاکھ ڈالرز ادا کئے گئے اور یہ جانتے ہو ئے کہ اس جعلی کمپنی نے براڈ شیٹ کے ساتھ جعل سازی کی ۔روزنامہ جنگ میں واجد علی سید کی شائع خبر کے مطابق براڈ شیٹ بنام نیب ثالثی کیس سے معلوم ہو تا ہے کہ تصفیہ سمجھوتے کے تحت یہ جو ادائیگیاں کی گئیں بظاہر لگتا ہے کہ یہ جیری جیمز کے کنٹرول میں رہیں ۔اس وقت وہ ایک غیر مجاز شخص تھا ۔اس کا تعلق ایک دوسرے کمپنی کولوریڈو سے تھا جسے اس نے براڈ شیٹ کا بھی نام دیا تھا ۔اصل براڈ شیٹ کمپنی کا تعلق آئزل آف مین سے تھا ۔ثالثی عدالت کی رائے میں یہ کوئی معمولی غلطی نہیں تھی بلکہ اسے اصل براڈ شیٹ کمپنی سے مالی فراڈ کی دانستہ کوشش قرار دیا ۔اکتوبر 2003 میں نیب کے وکلا نے براڈ شیٹ اور آئی اے آر کو معاہدے سے قبل مواد کے غیر نمائندہ ہو نے پر اسے منسوخ کر نے کے لئے لکھا کوے موساوی کی کی قیادت میں کمپنی آئی اے آر بھٹو خاندان اور براڈ شیٹ شریف خاندان سمیت 200 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی تھی ۔عدالتی ستاویزات کےمطابق نیب تصفیہ کے لئے بات چیت کا خواہاں تھا جس کے لئے نیب کے مذاکرات کار احمد بلال صوفی اپریل 2007 میں لندن آئے جس کے لئے مشترکہ کے بجائے علیحدہ ملاقاتیں ہو ئیں ۔ایک ملاقات 17 اپریل کو جیمز نمائندہ براڈ شیٹ سے ہوئی جس میں احمد بلال صوفی نے 15لاکھ ڈالرز ادائیگی کا سمجھوتہ کیا اور 19 اپریل کو ڈاکٹر پیپر اور موساوی سے آئی اے آر کی طرف سے ہو ئی ۔ 2 جنوری 2002 کو آئی اے آر اور نیب کے درمیان 15 ملین پائونڈ کی ادائیگی کا سمجھوتہ طے پایا ، دوسری طرف براڈ شیٹ 2005 سے کاروبار کے خاتمے کے عمل سےگزر رہی تھی ۔ کوے مسوساوی نے آئی آر اے کے معاہدے سے جرمانے حاصل کر نے کے بعد جو اصل براڈ شیٹ کا حسہ تھی ، تصفیہ سے نصف نصف حصے کے لئے بات چیت کی ۔ تاہم جیری جیمز نے علیحدہ اختیار کر کے اپنی کولوریڈو کے نام سے قائم کر لی اور اپریل 2007 میں تنہااحمد بلال صوفی سے بات چیت کی جس کے نتیجے میں 20 مئی 2008 کو تصفیہ کا غلط سمجھوتہ ہوا ۔عدالت کے خیال میں ایک فراڈ کمپنی سے سمجھوتہ کیا گیا ۔نیب کے نمائندے احمد بلال صوفی جانتے تھے کہ اصل کمپنی اپنے خاتمے کے عمل سے گزر رہی ہے اور انہوں نےیہ جانتے ہوئے غلط سمجھوتہ کیا ۔ تصفیہ کے نام نہاد سمجھوتے پر لندن میں ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط نے حکومت پاکستان کی طرف سے اور جیری جیمز نے براڈ شیٹ کی جانب سے تین بار دستخط کئے ۔ بعد ازاں کوے موساوی کو سمجھوتے کا علم ہوا تو انہوں نے جیری جیمز اور نیبکو چیلنج کیا ۔ثالثی عدالت کی کارروائی کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا کہ براڈ شیٹ جبرالٹر نام سے کسی کمپنی کا کوئی وجود نہیں ہے ۔نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان ایک اور نمایاں تنازع زر تلافی زق نمبر چار کی تشریح تھی ۔یہ جون 2000 میں نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان اسیٹریکوری ایگریمنٹ میں طے پائی تھی۔نیب نے براڈ شیٹ پر عدم کارکردگی کا الزام عائد کیا ۔ اور معاہدہ منسوخ کیا ۔ 11 دسمبر 2003 کو تنسیخی خط کے جواب میں براڈ شیٹ نے اسے اے آر اے کی خلاف ورزی قرار دیا ۔نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان یہ یہ تنازع سابق وزیر اعظمنواز شریف کے تعلق سے اٹھا جب یہ بات سامنے آئی کہ نواز شریف خاندان نے جرمانے یا دیگر شکل میں حکومت کو بھاری ادائیگی کی ہے ۔یہ واضح نہیں کہ نیب نے کوئی بازیابی کی ہو۔ مقدمے کی سماعت کے دوران سمجھوتے کی مبینہ خلاف ورزیاں جس میں انفرادی منتقلیاں اوراہداف شامل ہیں لیکن جج نے کارروائی کے دائرہ کار کو وسعت نہیں دی ۔ آفتاب شیرپائو اور جمیل انصاری دو استثنا تھے براڈ شیٹ نے ان دو افارد کے بارے میں تفصیلات فراہم کردی تھیں لیکن نیب نے اسے کارروائی کا حصہ نہیں بنایا ۔عدالتی دستاویزات کے مطابق سابق چئیرمین نیبمنیر حفیظ نے اے آر اے کے تحت جمیل انصاری کو ہدف درج کر نے میں ناکامی کی وضاحت کی اور کہا کہ ان کے خلاف ناکافی شہادت تھی لیکن اس بات کو باور کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کا کرپشن کا دستخط شدہ اعترافات موجود تھا ۔جنرل منیر حفیظ نے بعد ازاں تصدیق کی کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ جب تک موجود اہداف کے خلاف کچھ حاصل نہیں ہو جاتا ، نئے اہداف نہیں دئے جائیں گے ۔ ثالثی کیس کی سماعت 2012 میں شروع ہوئی اور فیصلہ اگست 2016 میں آیا ۔