خلیجی ریاستوں سے معاہدے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں مزید یہودی بستیوں کی منظوری دیدی

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 780 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ فلسطینی انتظامیہ اور یورپی یونین نے فیصلے کی مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناکا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نےغرب اردن کے علاقے میں مزید مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجیمن نتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ان نئی تعمیرات کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز روز ایک سرکاری کمیٹی نے365مکانات کی تعمیر کی حتمی توثیق کر دی جبکہ مزید 415 نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی ابتدائی منظوری دے دی۔ تعمیرات پر نظر رکھنے والے نگراں ادارے پیس ناکا کہنا تھا کہ جن مکانات کی تعمیر کو منظور کیا گیا ہے ان میں نوے فیصد گھر مغربی کنارے کے کافی اندر اس جگہ پر تعمیر ہوں گے جسے فلسطینی حکام اپنی آزاد ریاست کا اہم مرکزی حصہ بتاتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اس سے قبل ایسے ہی غیر قانونی مقامات پر بنے 200 مکانات کو قانونی قرار دے چکی ہے۔ پیس نا کا کہنا تھاکہ بستیاں بسانے سے نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ طویل المعیاد تنازعات کے خاتمے کا امکان ختم ہوجائے گا، بلکہ اس سے مختصر وقت کے لیے اسرائیل اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان ٹکرا کی بھی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔پیس نا کے مطابق ٹرمپ کے چار سالہ دور اقتدار میں اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں 27 ہزار نئے مکانات کی تعمیر کو منظوری دی جو اوباما انتظامیہ کی دوسری معیاد سے تقریبا ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بستیاں بسانے کے ان توسیعی منصوبوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اسوقت تقریبا ساڑھے چار لاکھ یہودی فلسطینیوں کے مغربی کنارے کی زمین پرآباد ہوچکے ہیں۔ اس علاقے میں تقریبا 28 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔فلسطینیوں کا کہناتھا کہ کہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ ان کا ہے جس پر اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ اس علاقے میں اسرائیلی آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی ان کی آزاد ریاست کاخواب مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے ان تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن مستقبل میں اگر امن مذاکرات بحال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، تو اسرائیل اسے مشکل ترین بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے نئے فیصلے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ یہ عالمی قوانین کے برعکس ہے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دھچکا لگے گا۔