پاکستان میں سیکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہیں، جنوبی افریقن کپتان کا پیغام

جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم کے کپتان کوئن ٹن ڈی کوک نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز دلچسپ اورسخت مقابلے ہوں گے، پاکستان میں سیکیورٹی کے انتظامات دیکھ کرمطمئن ہیں۔جنوبی افریقی کپتان کوئن ٹن ڈی کوک نے ورچول پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز دلچسپ اور سخت مقابلےہوں گے، پاکستان کو ہوم کنڈیشنز کا فائدہ ہوگا، میزبان اسپنرز ہمارے لیے ایک چیلنج ہوں گے ہماری بیٹنگ بہت مضبوط ہے، اپنے بالوں سے اچھی کارکردگی کی توقعات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی کے حوالے سے مسائل کا سامنا نہیں ہے، کورونا وائرس سے پوری دنیا متاثر ہے کرکٹ بھی متاثر ہوئی ہے، طویل مدت برس کے بعد جنوبی افریقہ کی پاکستان آمد خوش آئند ہے۔کپتان جنوبی افریقا ٹیم نے کہا کہ کافی عرصہ بعد پاکستان آئے ہیں، یہاں کی کنڈیشنز کا زیادہ اندازہ نہیں، ہمیں یہاں کی کنڈیشنز کا اندازہ نہیں جو ہمارے لئیچیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کا اس کے ہوم گرانڈ پر کھیلنا مشکل ہوتا ہے، کوچنگ اسٹاف میں جن افراد کو یہاں کا تجربہ ہے ان سے یہاں کی کنڈیشنز پر رائیلے رہے ہیں۔کوئن ٹن ڈی کوک نے کہا کہ بابراعظم کی واپسی کے بعد پاکستان کی ٹیم اور مضبوط ہوجائے گی، بدقسمتی ہے کہ کورونا کی وجہ سے عوام اسٹیڈیم میں آکر میچز نہیں دیکھ سکیں گی۔کوئن ٹن ڈی کوک نے یہ بھی کہا کہ امید ہے یہ سیریز مستقبل میں مزید کرکٹ کی جانب ایک اور قدم ہوگی، اندازہ ہے کہ پاکستانی اسپنرز ہمارے لئے خطرہ بن سکتے ہیں، اسکواڈ میں اضافی سپنرز سے اندازہ ہورہا ہے کہ ہمیں یہاں کس طرح کی وکٹیں ملیں گی۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم کے ارکان منگل کو کراچیمیں رپورٹ کریں گے۔جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم کے ارکان کراچی میں رپورٹ کریں گے۔ اعلان کردہ بیس کرکٹرز کا ایک کوویڈ ٹیسٹ ہفتے کو ہوا تھا، جس کی رپورٹس میں تمام کھلاڑی اور مینجمنٹ کے ارکان کلیرہیں اب دوسری کوویڈ ٹیسٹنگ کراچی میں ہوٹل پہنچنے پرہوگی۔ کپتان بابراعظم، عابد علی، اظہرعلی،ہیڈکوچ مصباح الحق، بولنگ کوچ وقار یونس، مینجر منصور رانا سمیت دوسرے ارکان کی منگل کہ سہ پہرلاہورسے فلائٹ ہے۔دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے کرکٹرزبراہ راست کراچی پہنچیں گے، قومی ٹیم میں پہلی بار منتخب ہونے والے ڈومیسٹک کے پرفارمرزپاکستان کپ کے سلسلے میں پہلے سے ہی کراچی میں موجود ہیں۔ پانچ روز کے قرنطینہ میں رہنے والی قومی ٹیم کے ارکان کودوسری کوویڈ ٹیسٹنگ رپورٹ نیگیٹوآنے پر اکیس جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم میں ٹریننگ کی اجازت ہوگی۔