کووڈ 19ویکسین میں زندہ وائرس نہیں ،لگوانے سے بیمار نہیں پڑسکتے، ماہرین

کووڈ19نے نظام زندگی کو جس طرح مفلوج کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اس کے ساتھ ماہرین اس سے نکلنے کی جدوجہد میں رہے،وبا کے ایک سال بعد عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی صورت حال میں ایک ویکسین پی فیزر،بائیواین ٹیک کی منظوری دی۔دیگر ممالک میں اس سے بچائو کی اپنی تیار کردہ ویکسین استعمال میں لائی جارہی ہیں۔ ویکسین آنے کے ساتھ ہی سماجی رابطوں کی سائیٹ پر ویکسین سے متعلقہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہوئیں کہ ویکسین لینے کے باوجود ماسک پہننا اور سماجی دوری اختیار کرنا ہوگی،کیا نظام زندگی واپس کووڈ سے پہلے کی طرح ہوجائے گا، کیاتعلیمی ادارے، میدان، پارک، شاپنگ مالز، ہوٹلز وغیرہ کھل جائیں گے، کیا سفری پابندیاں ختم ہوجائیں گی،کاروبار چل پڑیں گے، کیا کووڈ دوبارہ تو نہیں ہوجائے گا۔روزنامہ جنگ میں رفیق مانگٹ کی شائع خبر کے مطابق ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا کی روک تھام کیلئے تمام ذرائع جو آپ کو میسر ہیں استعمال میں لائیں جائیں۔ویکسین لینے سے یہ وبا کمیونٹیز میں پھیلائو کو کم کرسکتی ہے۔ ماسک پہننے اورمعاشرتی دوری سے آپ کو وائرس کا خطرہ ہونے یا دوسروں تک پھیل جانے کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن یہ اقدامات کافی نہیں، ویکسین آپ کے مدافعتی نظامکے ساتھ کام کرے گی،اگرآپ کو وائرس متاثر کرتا ہے تو ویکسین لینے کے بعد جسم اس سے لڑنے کیلئے تیار ہوگا۔ امراض کے کنٹرول اور تحفظ کے امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق امریکا میں تجویز کی گئی کووڈ ویکسین میں زندہ وائرس نہیں جوکووڈ19 کا سبب بنتا ہے لہذا واضح ہے کہ کووڈ ویکسین سے کووڈ کی وجہ سے بیمار نہیں پڑسکتے۔تمام ویکسین مدافعتی نظام کو یہ سکھاتی ہیں کہ وائرس کو کیسے پہچاننا اور لڑنا ہے۔ بعض اوقات یہ عمل بخارجیسی علامات کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم یہ معمول کی بات ہے اور ان علاماتسے ظاہرہوتا ہے کہ جسم اس وائرس سے تحفظ فراہم کررہا ہے جو کووڈ19کا سبب بنتا ہے۔ویکسین لینے کے چند ہفتے بعد جسم میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے کوئی شخص اس وائرس سے ویکسین لینے کے عین قبل یا فوری بعد کووڈ کا شکار ہوجائے اوربیماررہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ویکسین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اتنا وقت نہیں ملا۔ کووڈ ویکسین لینے کے بعد وائرل ٹیسٹ میں کووڈ 19کا ٹیسٹ مثبت نہیں آئے گا،یاد رہے انفیکشن کا سبب بننے والے وائرس کو معلوم کرنے کیلئے وائرل ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں مجوزہ یا تجویزکردہ ویکسین اور امریکا میں کلینیکل ٹرائلز میں موجود دیگر کووڈ ویکسین وائرل ٹیسٹ میں مثبت ٹیسٹ کاسبب نہیں بن سکتی۔ اگر جسم میں مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو کہ ویکسین کا مقصد ہے تو یہ ممکن ہے کچھ اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ مثبت آجائیں۔اینٹی باڈیز ٹیسٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کوماضی میں انفیکشن تھااور آپ کو وائرس کے خلاف کچھ سطح پر تحفظ ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کووڈ کا شکار ہو ا اور اب صحت مند ہے تو اسے ابھی بھی کووڈ ویکسین لینے کی ضرورت ہے کیونکہ کووڈ19سے وابستہ شدید صحت کے خطرات ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کووڈ19کے ساتھدوبارہ انفیکشن ممکن ہے،اس لئے ویکسین کی ضرورت ہے۔اس وقت ماہرین نہیں جانتے کہ کووڈ 19سے صحت یاب ہونے کے بعد کوئی کب تک بیمار ہونے سے محفوظ رہتا ہے انفیکشن ہونے کے بعد حاصل ہونے والی قوت مدافعت جسے قدرتی قوت مدافعت کہتے ہیں ہر شخص میں اس کیسطح مختلف ہے۔ کچھ ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ قدرتی قوت مدافعت بہت زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی۔ہمیں ابھی یہ معلوم نہیں ویکسین لینے کے بعد پیدا قوت مدافعت کتنی دیر باقی رہتی ہے،اس کیلئے مزید اعدادوشمار کا انتظار کرنا ہوگا کہ مختلف ویکسین کیسے کام کرتی ہیں۔قدرتی قوت مدافعت اور ویکسین سے پیدا قوت مدافعت دونوں ہی کووڈ 19سے بچاو کیلئے اہم ہیں۔ کووڈ ویکسین بیمار پڑنے سے تحفظ دیتی ہے، بیمار پڑنے سے بچنا ضروری ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں کووڈ تھا وہ معمولی بیمار تھے، کچھ شدید بیمار جن کے صحت پر طویل مدتیاثرات ہوسکتے ہیں یا وہ مرسکتے ہیں۔ کووڈ ویکسین لینے سے ڈی این اے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی۔میسنجر آراین اے ویکسین جسے امریکا میں تجویز کیا گیا یہ ویکسین ہمارے خلیوں کو پروٹین بنانے کا طریقہ سکھاتی ہیں، جو مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتی ہیں۔ کووڈ ویکسینکا ایم آر این اے کبھی بھی خلیے کے مرکزے میں داخل نہیں ہوتا جہاں ہمارے ڈی این اے کو رکھا جاتا ہے،جس کا مطلب ہے کہ کووڈ ویکسین کسی بھی طرح ہمارے ڈی این اے کو متاثریا اس میں تبدیلی نہیں کرسکتی۔ بلکہ کووڈ ایم آر این اے ویکسین جسم کے فطری دفاع کے ساتھ کام کرتی ہے،عام طور پر کلینکل ٹرائلز کے دوران پانے جانے والے ضمنی اثرات(سائیڈ ایفیکٹس)ویسے ہی ہیں جو دیگر ویکسین کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔یہ اثرات ہلکے یا معتدل ہیں انجیکشن کے مقام پر درد، جسم کا کاپنا،تھکاوٹ محسوس ہونا اور بخار جیسی علامات ہیں۔یہ ویکسینوں کے عام ضمنی اثراتہیں اور ان سے صحت کو کوئی خطرہ نہیں۔تمام ویکسینوں کی طرح اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس کے سنگین ضمنی اثرات ہوں گے۔ لیکن یہ بہت کم ہے ایک سنگین سائیڈ ایفیکٹ الرجی کے ردعمل کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔اگر آپ کسی وجہ الرجی کا شکار ہوسکتے ہیں تو ویکسینلینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ ماسک پہننے اور معاشرتی دوری سے آپ کو وائرس کا خطرہ ہونے یا دوسروں تک پھیل جانے کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن یہ اقدامات کافی نہیں ویکسین آپ کے مدافعتی نظام کے ساتھ کام کرے گی،اگرآپ پر وائرس متاثر کرتا ہےتو یہ اس سے لڑنے کیلئے تیار ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا کی روک تھام کیلئے تمام ذرائع جو آپ کو میسر ہیں استعمال میں لائیں جائیں۔ویکسین لینے سے یہ وبا کمیونٹیز میں پھیلاو کو کم کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے دسمبر کے آخر میں کوویڈ 19سے بچاو کیلئے ہنگامی استعمال کیلئے پہلی ویکسین پی فیزر،بائیواین ٹیک کو تجویز کیا اور عالمی سطح پر یکساں رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ کوورونا وائرس کے ایک سال بعد ڈبلیو ایچ او کی طرف سے توثیق کی جانے والی یہ پہلی ویکسین ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے منظوری کے بعد مختلف ممالک کے لئے ویکسین کی درآمد اور باقاعدہ منظوری کے عمل کاراستہ کھول دیا ہے۔ اس کے تحت یونیسیف اور پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کو ضرورت مند ممالک میں تقسیم کے لئے ویکسین کے حصول کے لئے بھی اہل بنایا ہے