گاڑی کا ٹائر پائوں پر کیوں چڑھایا؟ پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو گولیاں مار کر قتل کردیا

پٹرولنگ پولیس کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے4 نامز اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے پیٹرولنگ پولیس کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ ڈجکوٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں نے ایک گاڑی کو مشکوک خیال کرتےہوئے روکنے کی کوشش کی جس پر شہری اور اہلکاروں میں تلخ کلامی ہوگئی بعد ازاں کارسواروں نے گاڑی روکنے کے بجائے گاڑی بھگا دی جس پر اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک کار سوار جاں بحق جب کہ تین افراد زخمی ہو گئے ،لاش اور زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقدمہ میں نامزد چاروں پٹرولنگ اہلکاروں کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں کو قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔سی پی او نے آئی جی کو ابتدائی انکوائری رپورٹ بھیج دی ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل کاروں نے کار روکنے کی کوشش کی۔کار نہ رکنے پر اہل کاروں نے تعاقب کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ پھرالہ گاوں میں کار سوار گاڑی چھوڑکر پیدل بھاگے۔رپورٹ کے مطابق فائرنگ سے وقاص نامی شخص شدید زخمی ہوا جس کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہوسکا۔ابتدائی تحقیقات میں پٹرولنگ پولیس کی غفلت پائی گئی ہے۔ اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا اور قواعد نظر انداز کیے۔۔پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں 4 اہلکاروں کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈجکوٹ میں ناکے پرگاڑی نہ رکنے پر اہلکاروں نے وقاص احمد پر فائرنگ کی، وقاص احمد کی کارکا ٹائر اے ایس آئی شاہد رسول کے پاؤں پر چڑھ گیا تھا جس پر اہلکاروں نے مشتعل ہوکربندوقیں تان لیں جب کہ وقاص نے خوفزدہ ہوکرکاردوڑا دی۔پولیس رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے پیچھاکرکے کار روکی اور وقاص کو نکال کرگولی ماردی ۔