امریکا میں کورونا نےدوسرے دن بھی تباہی مچا دی ، برطانیہ میں بھی صورتحال تشویشناک ہو گئی

امریکا میں مسلسل دوسرے روز کورونا سے تقریبا 4 ہزار اموات ہوئیں جبکہ پونے دو لاکھ سے زائد نئے کیسز رپورٹ سامنے آئے ہیں۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد ڈھائی کروڑ سے زائد ہوگئی۔امریکا کے صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکا آنے والے مسافروں کو قرنطینہ میں رہنا ہوگا، کورونا سے اموات کی تعداد اگلےماہ 5 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے۔ادھر برطانیہ میں بھی 1200 سے زائد اموات ہوئیں اور 36 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرکے پارٹی میں شرکت کرنیوالوں کو 800 پاونڈ جرمانہ دینا پڑے گا۔صورتحال خراب ہونے کے سبب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے لاک ڈاون ختم کرنے کی تاریخ دینے سے گریز کیا ہے۔دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاس کے ملازمین کو واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کسی نے اونچی آواز میں بات کی یا پھر بدتمیزی کی تو موقع پر ہی ملازمت سے برطرف کردوں گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں وائٹ ہائوس کے اصولوں کو واپس لانا ہے جو گزشتہ 4 سال میں کہیں کھو گئے ہیں۔جوبائیڈن نے وائٹ ہائوس کے ملازمین سے ورچوئل ملاقات کے دوران کہا کہ کہ اگر آپ میرے ساتھ ہمیشہ کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ بہت آسان ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ عزت سے پیش آنا ہے اور ان سے نرم لہجے میں گفتگو کرنا ہے۔امریکی صدر نے اپنی پہلی ورچوئل میٹنگ میں کہا کہ اگر کسی نے اونچی آواز سے بات کی یا کوئی بدتمیزی کی تو اس شخص کو بغیر کسی لحاظ کے موقع پر ہی ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔